طبی ماہرین نے روزمرہ کی بعض ایسی عادات سے خبردار کیا ہے جو بظاہر بے ضرر دکھائی دیتی ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ جسمانی اور ذہنی صحت کے بتدریج زوال کا سبب بن سکتی ہیں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق روزمرہ کے 6 باریک مگر مستقل رویے صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور جسمانی یا نفسیاتی دباؤ کا باعث بنتے ہیں حتیٰ کہ ایسے اوقات میں بھی جب وہ عادات معمول یا ذہنی دباؤ میں راحت بخش محسوس ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں
ماہرین نے کہا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ طاقت بڑھانے والی ورزشوں کو ترک کرنا زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ جسم میں ساختی تبدیلیاں صحت، سلامتی اور خودمختاری پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس ضمن میں بتایا گیا کہ گھر پر سادہ طریقے، جیسے ہلکے وزن استعمال کرنا، مسل مضبوط بنانے اور توازن بہتر کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
موبائل فون کا مسلسل استعمال
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
طویل وقت تک اسکرین کے سامنے بیٹھنا آنکھوں پر دباؤ ڈالتا ہے توجہ کی صلاحیت کم کرتا ہے، بے چینی اور ڈپریشن کو بڑھاتا ہے اور سماجی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
رپورٹ نے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیئے جن میں غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کرنا، آنکھوں کو آرام دینے کے لیے 20-20-20 اصول (ہر 20 منٹ بعد 20 فٹ دور چیز کو 20 سیکنڈ کے لیے دیکھنا) اپنانا اور بے مقصد اسکرولنگ سے بچنے کے لیے فون کو کسی دوسرے کمرے میں رکھنا شامل ہے۔
ذہنی لچک کی کمی
تیسرے نکتے میں ماہرین نے ذہنی لچک پیدا کرنے پر زور دیا اور کمال پسندی اور انتہا پسندانہ سوچ سے دستبردار ہونے کی تلقین کی کیونکہ غلطیوں پر حد سے زیادہ توجہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ماہرین نے زیادہ حقیقت پسندانہ اور چھوٹے اہداف اپنانے کی سفارش کی مثلاً وقت کی کمی کی صورت میں ورزش مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے کم فاصلے تک چہل قدمی کرنا۔
زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا
چوتھے نمبر پر رپورٹ نے طویل عرصے تک بیٹھے رہنے کے خطرات کی نشاندہی کی گئی اور سستی کو وزن میں اضافے، بلند فشارِ خون اور خون میں شوگر کی سطح پر ناقص کنٹرول سے جوڑا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ دن کے دوران مختصر وقفے لے کر کھڑا ہونا اور حرکت کرنا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
نیند کے اوقات میں بے ترتیبی
پانچویں نکتے میں ماہرین نے نیند کے غیر منظم اوقات سے خبردار کیا اور بتایا کہ سونے اور جاگنے کے اوقات میں بے قاعدگی توجہ میں کمی، جذبات پر قابو پانے میں دشواری اور دن بھر توانائی کی سطح میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
آخر میں ماہرین نے صحت کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات اپنانے کا مشورہ دیا جن میں جسمانی سرگرمی کو ترجیح دینا، متوازن غذا، باقاعدہ نیند، تمباکو نوشی سے پرہیز اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ شامل ہیں، بجائے اس کے کہ بیماری ظاہر ہونے کے بعد اس سے نمٹا جائے۔
ان روزمرہ منفی عادات سے نجات کا آغاز انہیں پہچاننے اور ان کے اثرات سے آگاہی حاصل کرنے سے ہوتا ہے جس کے بعد بتدریج انہیں ترک کر کے صحت مند عادات اپنائی جا سکتی ہیں۔