اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

صحت کو تباہ کرنے والی 6 بری عادتیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

طبی ماہرین نے روزمرہ کی بعض ایسی عادات سے خبردار کیا ہے جو بظاہر بے ضرر دکھائی دیتی ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ جسمانی اور ذہنی صحت کے بتدریج زوال کا سبب بن سکتی ہیں۔

سبق ویب سائٹ کے مطابق روزمرہ کے 6 باریک مگر مستقل رویے صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور جسمانی یا نفسیاتی دباؤ کا باعث بنتے ہیں حتیٰ کہ ایسے اوقات میں بھی جب وہ عادات معمول یا ذہنی دباؤ میں راحت بخش محسوس ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں

ماہرین نے کہا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ طاقت بڑھانے والی ورزشوں کو ترک کرنا زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ جسم میں ساختی تبدیلیاں صحت، سلامتی اور خودمختاری پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ 

اس ضمن میں بتایا گیا کہ گھر پر سادہ طریقے، جیسے ہلکے وزن استعمال کرنا، مسل مضبوط بنانے اور توازن بہتر کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

موبائل فون کا مسلسل استعمال

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ 

طویل وقت تک اسکرین کے سامنے بیٹھنا آنکھوں پر دباؤ ڈالتا ہے توجہ کی صلاحیت کم کرتا ہے، بے چینی اور ڈپریشن کو بڑھاتا ہے اور سماجی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ نے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیئے جن میں غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کرنا، آنکھوں کو آرام دینے کے لیے 20-20-20 اصول (ہر 20 منٹ بعد 20 فٹ دور چیز کو 20 سیکنڈ کے لیے دیکھنا) اپنانا اور بے مقصد اسکرولنگ سے بچنے کے لیے فون کو کسی دوسرے کمرے میں رکھنا شامل ہے۔

46512

ذہنی لچک کی کمی

تیسرے نکتے میں ماہرین نے ذہنی لچک پیدا کرنے پر زور دیا اور کمال پسندی اور انتہا پسندانہ سوچ سے دستبردار ہونے کی تلقین کی کیونکہ غلطیوں پر حد سے زیادہ توجہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ 

ماہرین نے زیادہ حقیقت پسندانہ اور چھوٹے اہداف اپنانے کی سفارش کی مثلاً وقت کی کمی کی صورت میں ورزش مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے کم فاصلے تک چہل قدمی کرنا۔

زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا

چوتھے نمبر پر رپورٹ نے طویل عرصے تک بیٹھے رہنے کے خطرات کی نشاندہی کی گئی اور سستی کو وزن میں اضافے، بلند فشارِ خون اور خون میں شوگر کی سطح پر ناقص کنٹرول سے جوڑا ہے۔ 

ماہرین نے کہا ہے کہ دن کے دوران مختصر وقفے لے کر کھڑا ہونا اور حرکت کرنا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

231231321

نیند کے اوقات میں بے ترتیبی

پانچویں نکتے میں ماہرین نے نیند کے غیر منظم اوقات سے خبردار کیا اور بتایا کہ سونے اور جاگنے کے اوقات میں بے قاعدگی توجہ میں کمی، جذبات پر قابو پانے میں دشواری اور دن بھر توانائی کی سطح میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

آخر میں ماہرین نے صحت کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات اپنانے کا مشورہ دیا جن میں جسمانی سرگرمی کو ترجیح دینا، متوازن غذا، باقاعدہ نیند، تمباکو نوشی سے پرہیز اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ شامل ہیں، بجائے اس کے کہ بیماری ظاہر ہونے کے بعد اس سے نمٹا جائے۔

ان روزمرہ منفی عادات سے نجات کا آغاز انہیں پہچاننے اور ان کے اثرات سے آگاہی حاصل کرنے سے ہوتا ہے جس کے بعد بتدریج انہیں ترک کر کے صحت مند عادات اپنائی جا سکتی ہیں۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے