جنگ کے چوتھے روز بھی ایران کے مختلف شہروں میں امریکہ و اسرائیل کے فضائی حملے جاری رہے، خاص طور پر تہران میں اہم فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں
اخبار 24 کے مطابق اس دوران ایران نے تل ابیب سمیت خلیجی ممالک میں کچھ اہداف پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے، جس کی عالمی برادری کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
6 امریکی فوجی ہلاک
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں 6 فوجی ہلاک ہوئے، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
نطنز جوہری مرکز کو نقصان
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے نطنز کے زیر زمین ایندھن افزودگی مرکز کے داخلی حصے میں حالیہ نقصان کی تصدیق کردی ہے۔
عالمی ایجنسی کے مطابق کسی قسم کے تابکاری اثرات کا خدشہ نہیں ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مرکز کی موجودہ حالت کی جانچ جدید سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر کی گئی۔
ایران کی سلامتی کونسل سے اپیل
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری جنگ روکنے کے اقدامات کی اپیل کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل چاہے تو امریکہ و اسرائیل کے حملے رکوا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے اس کی نیت ہونا ضروری ہے۔
تہران میں اسرائیلی حملوں کا انتباہ
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تہران کے رہائشیوں، خصوصاً ریڈیو اور ٹی وی کے مرکزی دفاتر کے قریب رہنے والوں کو ایمرجنسی کے طور پر انخلا کی وارننگ دی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ کے 4 دنوں میں اسرائیل نے تہران کے حساس مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ریڈیو و ٹیلی ویژن کمپلیکس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات
اُدھر امریکی وزارت خارجہ کی معاون مورا نامدار نے ایران، عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، یو اے ای، یمن، لبنان، بحرین اور مصر سمیت 14 ممالک سے امریکی شہریوں کو فوراً روانہ ہونے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی خواہش: ایرانی حکومت کا خاتمہ
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی حکومت کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کی کہ امریکہ اسرائیل مشترکہ فوجی کارروائی کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل اور بحری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا ہے، نہ کہ حکومت کا براہِ راست خاتمہ۔
تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا کو امید ہے کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک کے لیے ایک نیا مستقبل قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہمیں خوشی ہوگی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر چین کی تشویش
دوسری جانب چین نے خطے میں جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کے تحفظ پر زور دیا ہے اور تمام فریقوں سے فوراً لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ ماو ننگ نے کہا کہ ہرمز میں ممکنہ اقتصادی نقصانات سے بچنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔
عمان میں ڈرون حملے، بندرگاہ متاثر
اُدھر دقم بندرگاہ کے فیول ٹینک کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، جو کہ عمان پر ایران کی جانب سے پہلا حملہ ہے۔
سلطنت عمان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نقصان پر قابو پا لیا جبکہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے تمام حفاظتی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امارات: فجیرہ پیٹرولیم زون میں ڈرون سے آتشزدگی
فجیرہ میں پیٹرولیم زون میں ڈرون حملے کے دوران آگ لگ گئی، جس پر مقامی حکام نے قابو پا لیا اور اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں مقامی انتظامیہ نے معمولات بحال کردیے۔
قطر نے 2 ایرانی طیارے گرا دیے
قطری وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران سے آنے والے 2 جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ اسی دوران 7 بیلسٹک میزائل اور 5 ڈرونز کو بھی ناکام بنایا گیا ہے، جو کہ ایران کی جوابی کارروائی کا حصہ تھے۔
حزب اللہ کی اسرائیلی اہداف پر کارروائی
حزب اللہ نے ایران پر امریکا و اسرائیلی حملوں کے ردعمل کے طور پر 3 اسرائیلی فوجی اڈوں پر حملے کیے، جبکہ اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقوں اور اپنے جنوب میں مسلسل فضائی حملے جاری رکھے، جس کی وجہ سے تقریباً 29 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
تہران اور دیگر ایرانی شہروں میں شدید دھماکے
جنگ کے چوتھے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں زبردست دھماکے ہوئے۔ شمالی تہران اور کرج و اصفہان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملیں۔
امریکہ کی 14 ممالک سے شہریوں کو نکلنے کی ہدایت
امریکی وزارت خارجہ نے 14 خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے شہریوں کو فوری طور پر نکلنے کی ہدایت جاری کی، جس میں ایران، عراق، اسرائیل، فلسطین، یمن، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین اور مصر شامل ہیں۔
ایران اور حزب اللہ پر اسرائیلی حملے
اسرائیلی فوج نے ایران اور حزب اللہ کے اہداف پر یکے بعد دیگرے حملے کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں موجود کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کردی گئی ہے۔
چین کی جوہری مذاکرات بحالی کی اپیل
چین نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن استعمال کا احترام کرتے ہوئے امریکہ سے فوجی کارروائی فوری روکنے اور جوہری مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ ماو ننگ نے کہا ہے کہ امریکہ کے حملے بین الاقوامی قوانین اور عالمی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کی حکمت عملی
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ برسوں نہیں چلے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں 4 سے 5 ہفتوں کے عرصے کی پیش گوئی کی تھی، تاہم تیاری ایک وسیع اور طویل جنگ کے لیے کی گئی تھی۔