مملکت نے ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر ایرانی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ، بزدلانہ اور بلا جواز اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
سرکاری بیان کے مطابق یہ حملہ مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور پورے خطے کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، بالخصوص 1949 کی چوتھی جنیوا کنونشن، جو شہریوں اور سویلین املاک کو نشانہ بنانے سے روکتی ہے اور 1961 کے ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات، جو سفارتی عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
مملکت نے خبردار کیا کہ ایرانی جارحانہ طرزِ عمل کا تسلسل خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
بیان کے مطابق اس خطرناک روش کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو عالمی امن اور سلامتی کو کمزور کرتی ہے۔
مملکت نے واضح کیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں اور مقیمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا مکمل اور غیر مشروط حق محفوظ رکھتی ہے، جس میں اس جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینا بھی شامل ہے۔