ایران کے خلاف جنگ کے تیسرے دن دار الحکومت تہران اور متعدد شہروں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ پیر کے علی الصبح سے امریکی، اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آ گئی، جو شیراز، کرمان اور صوبہ یزد کے تین شہروں تک پھیل گئے۔
جنوبی ایران کے جزیرہ کیش میں بھی دھماکے کی آواز سنی گئی۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
ایرانی ہلالِ احمر نے اعلان کیا کہ ہفتے کی صبح سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 555 ہو گئی ہے جبکہ خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق شمالی تہران کے میدان نیلوفر پر ہونے والے حملے میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔
ایرانی وزارتِ تعلیم نے بھی تصدیق کی کہ مسلسل بمباری کے نتیجے میں 170 طالبات اور اساتذہ ہلاک ہوئے۔
سینکڑوں اہداف پر حملے، ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے اندر سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، اور جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔
ایک ویڈیو خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’جنگ کے اختتام سے پہلے مزید جانی نقصان کا خدشہ ہے‘ اور یہ بھی کہا کہ امریکہ ’ان دہشت گردوں کو سخت ترین ضرب لگائے گا جنہوں نے تہذیب کے خلاف جنگ چھیڑی ہے‘۔
ٹرمپ نے ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ’امریکہ آپ کے ساتھ ہے‘۔
اسی دوران امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے مخالفین کو ’ہتھیار ڈالنے یا یقینی موت‘ میں سے ایک انتخاب کا انتباہ دیا۔
نیتن یاہو کے دفتر اور ’لنکن‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
دوسری جانب خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا کہ حملوں کی ’دسویں لہر‘ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر اور اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا تاہم اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
مزید برآں ’خاتم الانبیاء‘ کمانڈ کے ترجمان نے آپریشن ’وعدہ صادق 4‘ کے تحت نئی لہروں کی کارروائی کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں تین امریکی اور برطانوی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’لنکن‘ پر چار کروز میزائل داغے گئے۔
اسی طرح خلیج میں امریکی بحریہ کی تین تنصیبات تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
لبنان بھی میدانِ جنگ میں، 31 افراد ہلاک
تصادم کا دائرہ لبنان تک پھیل گیا، جہاں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور جنوبی و مشرقی علاقوں پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق 31 افراد ہلاک اور 149 زخمی ہوئے۔
اس سے قبل حزب اللہ نے حيفا پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے اسے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا ’بدلہ‘ قرار دیا تھا، جس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے شدید بمباری کی۔
ایک اہم پیش رفت میں لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے حزب اللہ کی عسکری اور سکیورٹی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے صرف سیاسی دائرے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ اور امن کا فیصلہ ’صرف ریاست کے ہاتھ میں‘ ہے اور سرکاری اداروں سے باہر کسی بھی کارروائی سے لبنان کی ساکھ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
کھلی جنگ اور باہمی دھمکیاں
ہفتے کی صبح شروع ہونے والے وسیع امریکی، اسرائیلی حملے، جس میں سپریم لیڈر اور درجنوں فوجی کمانڈرز مارے گئے، کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر میزائل داغے، جس سے جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
مسلسل حملوں اور ان کے دائرہ کار کے خلیج اور لبنان تک پھیلنے کے ساتھ خطہ ایک کھلی اور وسیع جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جو ایران اور اسرائیل کی سرحدوں سے آگے بڑھ چکی ہے، اور جس میں بڑھتی ہوئی دھمکیاں اور آگ بھڑکاتی بیانات کسی کمی کے آثار نہیں دکھا رہے۔