ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے خاتمے کو 8 ماہ گزر چکے ہیں۔ وہ جنگ جس میں اسرائیل نے ایران کے کئی اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنایا اور پھر اس کا اختتام امریکی مداخلت پر ہوا، جس میں ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
مزید پڑھیں
8 ماہ قبل ہونے والی جنگ کا دھواں ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے مختلف علاقوں پر دہائیوں کی سب سے بڑی فوجی کارروائی شروع کردی، جسے امریکہ نے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ہے۔
یہ کارروائی ایران کے میزائل ڈھانچے، فوجی مراکز، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
نئی کارروائی سے پہلے
گزشتہ جون میں اسرائیل نے امریکہ کی معاونت سے ایران پر حملہ کیا تھا۔ اُس کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب نے واضح کیا تھا کہ اگر تہران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھے تو مزید حملے کیے جائیں گے۔
گزشتہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی ہوئے، جن میں عمان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، تاہم بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا کہا کہ ایران نے کئی دہائیوں کی طرح اس بار بھی جوہری عزائم ترک کرنے کا موقع مسترد کیا۔ اسی پس منظر میں امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی طاقت بڑھائی اور بالآخر جامع حملے کا فیصلہ کیا۔
حملوں کی نئی لہر
ہفتے کی صبح اچانک امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر شروع ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلا نشانہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ہیڈکوارٹر اور چند اعلیٰ فوجی رہنما بنے۔
یہ کارروائی مبینہ طور پر رمضان کے دوران ان کی نقل و حرکت سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
دارالحکومت تہران میں بیک وقت کئی دھماکے سنائی دیے، جو پاستور کے علاقے میں واقع صدارتی کمپلیکس سے لے کر وصال اسٹریٹ اور عدلیہ کی عمارت کے اطراف تک پھیل گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کرج، قم، اصفہان، تبریز، کرمانشاہ، اندیمشک، دزفول، شیراز اور ایلام میں بھی دھماکے ہوئے۔ یہ منظر ایران عراق جنگ کے بعد سب سے شدید عسکری کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں بیلسٹک میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن کے اہداف اور استعمال ہونے والا اسلحہ
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق حملوں کا مرکز ایران کے حساس فوجی اور اسٹریٹیجک مقامات تھے، جن کے تحت تہران اور دیگر شہروں میں پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر شدید دھماکے ہوئے۔
منصوبے کے تحت اصفہان میں جوہری تنصیبات کے قریب مقامات کو ہدف بنایا گیا، جبکہ بوشہر کے اطراف بھی کارروائی کی اطلاعات ملیں، تاہم بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔
واشنگٹن نے اس آپریشن میں جدید اسلحہ استعمال کیا ہے، جن میں ٹوماہاک کروز میزائل، اسٹیلتھ لڑاکا طیارے اور کم لاگت خودکش ڈرون، جن کے ڈیزائن ایرانی ماڈلز سے مشابہ بتائے گئے، شامل ہیں۔
اس سلسلے میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصاویر بھی جاری کیں، جن میں F-18 اور F-35 طیارے اور ٹوماہاک میزائل دکھائے گئے۔
ٹوماہاک میزائل عموماً سمندر سے داغے جاتے ہیں، جن کی رینج تقریباً 1600 کلومیٹر، لمبائی 6.1 میٹر اور وزن تقریباً 1510 کلوگرام ہے۔ یہ میزائل انتہائی محفوظ فضائی حدود میں بھی درست نشانہ لگا سکتے ہیں۔
اسی طرح F-35 طیارے ریڈار نظام کو تلاش کر کے تباہ کرنے والے میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے دشمن کی دفاعی آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں۔
ایران کا بڑا سیاسی نقصان
صرف ایک دن کے اندر اس کارروائی کے سیاسی اثرات سامنے آ گئے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی کہ حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔
اسی اجلاس کے دوران وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، چیف آف جنرل اسٹاف عبد الرحیم موسوی، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی بھی مارے گئے۔
دیگر ہلاک شدگان میں انٹیلی جنس افسر صالح اسدی، دفاعی محققین حسین جبل عاملیان اور رضا مظفری نیا، سینئر دفاعی رابطہ افسر محمد شیرازی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق کم از کم 7 اعلیٰ ایرانی حکام ہلاک ہوئے، جبکہ ایرانی میڈیا نے مزید ناموں کے سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
ایرانی ردعمل سے خطہ آگ کی لپیٹ میں
حملوں کے بعد ایران نے بھی فوری جوابی کارروائی کی، جس میں اسرائیلی شہروں کے علاوہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کے تحت حملے کیے گئے۔
ہفتے کی صبح سے سعودی عرب، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اس کے بعد خلیجی خطے میں ہنگامی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے مقاصد
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور اس کی میزائل صلاحیت تباہ کرنا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کا تیز رفتار جوہری اور میزائل پروگرام اس کے لیے وجودی خطرہ بن چکا تھا، جسے ختم کرنا ضروری تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو بیان، جو انہوں نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیا، میں کہا کہ ان کی انتظامیہ نے خطے میں امریکی شہریوں کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے تمام اقدامات کیے ہیں۔
ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ جنگ میں جانی نقصان کا امکان ہوتا ہے، مگر یہ اقدام مستقبل کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اس کارروائی کے اثرات سے نکلنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
نئے دور کا آغاز؟
ایران پر حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر یقینی ہو چکی ہے۔ اعلیٰ قیادت کی ہلاکت، فوجی ڈھانچے کی تباہی اور سمندری راستوں کی بندش جیسے عوامل خطے کو خطرناک موڑ پر لے آئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن خطے کے سیکیورٹی منظرنامے کو مستحکم کرے گا، یا یہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی پہلی چنگاری ثابت ہو گی؟
فی الحال دھوئیں کے بادل فضا میں معلق ہیں اور مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر اگلا قدم تاریخ کا رُخ بدل سکتا ہے۔