قطر کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کو ایران کی جانب سے 2 ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں
بیان کے مطابق ایک ڈرون نے مسیعید انرجی کے ایک کارخانے سے منسلک پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے ڈرون نے ’قطر انرجی‘ کے زیر انتظام راس لفان صنعتی شہر میں واقع توانائی کی ایک تنصیب کو ہدف بنایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات اور مالی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
وزارت دفاع نے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور ملک آنے والے مہمانوں کو اطمینان رکھنے اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
حملے کے بعد ایل این جی پیداوار معطل
دوسری جانب قطر انرجی نے اعلان کیا ہے کہ حملے کے بعد ایل این جی اور اس سے وابستہ مصنوعات کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب صنعتی شہروں راس لفان اور مسیعید میں واقع اس کی آپریشنل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس صورتحال کے باوجود تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتی ہے اور ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ بیان کے مطابق دستیاب معلومات اور تازہ پیش رفت سے متعلق مزید تفصیلات سے گاہے بگاہے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔