متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے سفیر رضا امیری کو طلب کر کے انہیں سخت احتجاجی مکتوب دیا اور ایرانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ اماراتی سرزمین کو نشانہ بنانا اس کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، قومی سلامتی کے لیے خطرہ، اور تمام بین الاقوامی معاہدوں، قراردادوں اور سفارتی روایات کی صریح پامالی ہے۔
ایرن، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
عاجل ویب سائٹ کے مطابق وزارت نے آج پیر کو جاری بیان میں کہا کہ وزیرِ مملکت خلیفہ شاہین المرر نے ایرانی سفیر کو طلب کرتے ہوئے حکومتِ ایران کی جانب سے شہری مقامات پر کیے گئے جارحانہ اقدامات کے جواز کو یکسر مسترد کر دیا۔
ان حملوں میں رہائشی علاقے، ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور خدماتی تنصیبات شامل تھیں، جن سے نہتے شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑیں۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ متحدہ عرب امارات نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اماراتی وزیر نے مزید کہا کہ یہ حملے حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہیں اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جنہیں امارات نے اختیار کیا تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان اقدامات کے دوطرفہ تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، جو سیاسی، اقتصادی اور تجارتی سطحوں تک پھیل سکتے ہیں۔