امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ ممکنہ سفارتی پیش رفت کے اشارے دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کی نئی قیادت نے ان کے ساتھ براہِ راست رابطے کے چینلز کھولنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس پر انہوں نے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
مزید پڑھیں
ایران کی خواہش
’دی اٹلانٹک‘ جریدے کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران کی نئی قیادت مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے اور میں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے، لہذا میں ان سے بات کروں گا۔
ٹرمپ نے تہران کی جانب سے اس پیش قدمی میں تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ انہیں یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ انہیں
شروع ہی سے عملی اور قابلِ عمل تجاویز پیش کرنی چاہیے تھیں، لیکن انہوں نے بہت دیر کر دی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا یہ مذاکرات آج یا کل ہوں گے تو ٹرمپ نے واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ وقت ابھی طے نہیں ہوا ہے۔
’مذاکرات کرنے والے کچھ ایرانی اب زندہ نہیں‘
ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مذاکراتی عمل میں حصہ لینے والی کچھ ایرانی شخصیات اب زندہ نہیں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ رخصت ہو چکے ہیں۔ جن سے ہم مذاکرات کر رہے تھے ان میں سے کچھ اب اس دنیا میں نہیں رہے، یہ ایک شدید دھچکا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ تہران نے معاہدے کے سابقہ مواقع ضائع کر دیے ہیں۔ اگر وہ جلد حرکت میں آتے تو معاہدہ ممکن تھا۔ انہوں نے ضرورت سے زیادہ لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان کو اس بات پر ختم کیا کہ سیاسی اور عسکری دباؤ کے ذریعے جو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں وہ ناقابل یقین ہیں اور معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
بغاوت کی کال
واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے بمباری کے بعد ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ اب آپ کے پاس ایک ایسا صدر ہے جو آپ کی خواہشات کو پورا کرتا ہے، تو دیکھتے ہیں کہ آپ کا ردعمل کیا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی تقدیر خود سنبھالیں اور اس شاندار اور خوشحال مستقبل کو حاصل کریں جو اب آپ کی پہنچ میں ہے۔