خلیج میں جاری جنگی صورتحال اور مختلف ممالک کی جانب سے فضائی حدود جزوی یا مکمل بند کیے جانے کے بعد امریکا کے مختلف ہوائی اڈوں پر تقریباً 15 خلیجی ایئرلائنز کے طیارے روک دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
میڈیا ذرائع کے مطابق اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو یہ تعداد بڑھ کر 35 بڑے طیاروں تک پہنچ سکتی ہے(جو وسیع جگہ گھیرتے ہیں)۔ اس پیش رفت نے بین الاقوامی پروازوں، خصوصاً خلیج اور امریکا کے بڑے شہروں کے درمیان سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔
امریکہ خلیجی ایئرلائنز کے لیے ایک اہم ترین مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ امارات ایئرلائن، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز جیسی بڑی کمپنیاں روزانہ
کی بنیاد پر امریکی شہروں کے لیے متعدد پروازیں چلاتی ہیں۔
ان روٹس پر عموماً بڑے طیارے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں B777، A350، A380 اور B787 شامل ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
فضائی حدود کی بندش کے بعد شہری ہوا بازی کے اداروں نے بعض فضائی راستے فوری طور پر بند کرنے یا مخصوص علاقوں کے اوپر سے پرواز سے گریز کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ان اقدامات کے باعث کئی خلیجی پروازوں کو یا تو خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں سے اُڑان منسوخ کرنا پڑی، کچھ طیاروں کو روانگی کے بعد درمیان راستے سے واپس لوٹنا پڑا۔
اسی طرح متعدد طیارے اپنی منزل (امریکی ہوائی اڈوں) ہی پر کھڑے رہنے پر مجبور ہو گئے تاکہ فضائی راستے کھلنے یا محفوظ متبادل روٹس کی منظوری کا انتظار کیا جا سکے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں کئی امریکی ہوائی اڈوں پر خلیجی طیاروں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ ان میں نیویارک کا جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، واشنگٹن کے قریب واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شکاگو کا اوہیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔
آپریشنل اندازوں کے مطابق کسی بڑے طیارے کی طویل مدت تک پارکنگ بعض بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فی گھنٹہ تقریباً 45 ہزار ریال تک لاگت پیدا کر سکتی ہے۔
اس رقم میں پارکنگ فیس، گراؤنڈ سروسز اور عملے کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال طویل ہو گئی تو خلیجی ایئرلائنز کو مالی دباؤ اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔