امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں اتوار کے روز عالمی فضائی سفر شدید متاثر ہوا۔
مزید پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ کے کئی بڑے ہوائی اڈے، جن میں دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں شامل دبئی ایئرپورٹ بھی شامل ہے، عارضی طور پر بند یا سخت پابندیوں کی زد میں آ گئے۔
امارات کے دبئی اور ابوظبی جبکہ قطر کے دوحہ ایئرپورٹ پر ٹرانزٹ پروازوں کو معطل یا محدود کردیا گیا۔ خطے کی فضائی حدود کے بڑے حصے بند ہونے کے باعث صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔
ہفتے کو امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
اسرائیل نے کشیدہ صورت حال میں ایران پر مزید حملوں کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے خلیجی ممالک کی سمت فضائی حملے کیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی اور دوحہ کے قریب دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایرانی حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ابوظبی اور کویت کے ہوائی اڈے بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے ایران پر پہلے حملے کے بعد سے ہزاروں پروازیں متاثر ہو چکی ہیں۔
عالمی سطح پر اثرات
دبئی اور دوحہ مشرق و مغرب کے درمیان فضائی سفر کے اہم مراکز ہیں، جہاں سے یورپ اور ایشیا کے درمیان طویل فاصلے کی پروازیں منظم شیڈول کے تحت چلتی ہیں۔ ان ہوائی اڈوں کی بندش سے دنیا بھر کے فلائٹ شیڈول متاثر ہوئے ہیں۔
ایوی ایشن کے تجزیہ کار جان اسٹرکلینڈ کے مطابق مسئلہ صرف مسافروں تک محدود نہیں بلکہ عملہ اور طیارے بھی دنیا بھر میں متاثر ہو رہے ہیں۔
یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی کئی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں منسوخ یا ان کے راستے تبدیل کر دیے ہیں تاکہ بند یا محدود فضائی حدود سے بچا جا سکے۔ اس کے باعث پروازوں کا دورانیہ اور ایندھن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
صورتحال اس لیے بھی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کہ روس یوکرین جنگ کے بعد ایرانی اور عراقی فضائی راستوں کی اہمیت بڑھ گئی تھی اور اب ان میں بھی رکاوٹ آ رہی ہے۔
فلائٹ ریڈار 24 کے عہدیدار ایان پیٹچنک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئرلائنز کو متبادل اور محدود راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بھی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔