ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں متعدد اعلیٰ فوجی اور سیاسی رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔
اخبار 24 کے مطابق اسرائیلی فوج اور ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کی صبح مختلف مقامات پر ہونے والے اسرائیلی و امریکی مشترکہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات ماری گئی ہیں۔
حملوں کی منصوبہ بندی
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2 امریکی ذرائع اور ایک باخبر عہدیدار نے بتایا کہ حملوں کا وقت اس طرح طے کیا گیا تھا کہ وہ خامنہ ای اور ان کے قریبی معاونین کے اجلاس کے دوران ہوں اور حملے کے وقت خامنہ ای اپنے دفتر میں موجود تھے۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ یہ کارروائی کئی ماہ کی منصوبہ بندی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں 3 اہم مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا جس میں اہم اور مرکزی عہدوں پر فائز شخصیات ہلاک ہوئیں۔
ہلاک ہونے والی شخصیات
ایرانی سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالرحیم موسوی، پاسدارانِ انقلاب (ایرانی انقلابی گارڈ) کے کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی دفاعی کونسل کے اجلاس کے دوران مارے گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں انٹیلی جنس افسر صالح اسدی، دفاعی شعبے سے وابستہ محقق حسین جبل عاملیان اور رضا مظفری نیا، اور سینئر دفاعی رابطہ افسر محمد شیرازی بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ حملوں میں کم از کم 7 اعلیٰ ایرانی عہدیدار بھی ہلاک ہوئے اور دعویٰ کیا کہ کارروائی حساس قیادت کے مراکز پر مرکوز تھی۔