امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی، اسرائیلی حملے کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ تہران معاہدے کے قریب تھا مگر بعد ازاں اس سے پیچھے ہٹ گیا۔
عاجل ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدے کے قریب تھا، پھر اس سے دستبردار ہو گیا اور اس کی کسی حقیقی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش نہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: بھرپور میڈیا کوریج، کلک کریں
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میرے پاس اس جنگ سے نکلنے کے متعدد حل موجود ہیں اور میں چاہوں تو اس کا دورانیہ بڑھا بھی سکتا ہوں یا کم بھی کر سکتا ہوں۔
دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے رابطے میں ہیں۔
آج ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں شروع کر دیں، جس سے خطے بھر میں جنگ کے دائرہ کار کے پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔