اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج ہفتے کے روز نیویارک میں ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر غور کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
یہ اجلاس امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی ردعمل کے تناظر میں بلایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کے مطابق 15 رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس نیویارک کے مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے شروع ہوگا۔ اس ماہ کونسل کی صدارت برطانیہ کے پاس ہے۔
اقوام متحدہ میں ماسکو مشن نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ
روس اور چین نے ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی بلا جواز مسلح کارروائی کے معاملے پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فرانس، بحرین اور کولمبیا نے بھی اجلاس بلانے کی حمایت کی ہے۔
روسی بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران امریکا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنی غیر قانونی اور کشیدگی بڑھانے والی کارروائیاں فوری طور پر بند کریں اور سیاسی و سفارتی حل کی راہ اختیار کریں۔
سبق ویب سائٹ کی رپورٹ میں ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس بھی اجلاس سے خطاب کریں گے۔
انتونیو گوتیریس نے آج اپنے پہلے جاری بیان میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کا استعمال اور اس کے بعد ایرانی ردعمل عالمی امن اور سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے فوری طور پر لڑائی روکنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل بھی کی اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ پیدا ہونے کا انتباہ دیا۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔