اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

’مداخلت سے گریز کریں یہ آپ کی جنگ نہیں‘ عمان کی امریکا سے اپیل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں اور تہران کے ردعمل کے تناظر میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعيدی نے کہا ہے کہ ایک بار پھر سنجیدہ اور مؤثر مذاکرات کو نقصان پہنچا ہے، جو نہ امریکا کے مفاد میں ہے اور نہ عالمی امن کے لیے سودمند۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں واشنگٹن سے اپیل کی کہ وہ مزید اس تنازع میں نہ الجھے، یہ آپ کی جنگ نہیں۔

دریں اثنا عمان کی وزارت خارجہ نے بھی فوجی کارروائیوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے خطے میں جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ 

ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے اصول کے خلاف ہے، لہٰذا تمام فریق فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کریں۔

عمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے اور جنگ بندی نافذ کرنے کے لیے واضح مؤقف اختیار کرنے کی اپیل بھی کی۔ ساتھ ہی مزید کہا گیا ہے کہ ہر ملک کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم ضبطِ نفس اور سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

اُدھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے عالمی امن اور سلامتی پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے ’ایکس‘ پر کہا کہ موجودہ کشیدگی سب کے لیے خطرہ ہے اور اسے رُکنا چاہیے۔ ایرانی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ اب اس کے پاس نیک نیتی سے مذاکرات میں شامل ہونے اور اپنے جوہری و بیلسٹک میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے بھی فوجی کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے بیان میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی ردعمل کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ ہر مسلح تنازع میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں صرف موت، تباہی اور انسانی تکالیف میں اضافہ کریں گی، اس لیے فوری طور پر کشیدگی کم کی جائے۔