امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں اور تہران کے ردعمل کے تناظر میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعيدی نے کہا ہے کہ ایک بار پھر سنجیدہ اور مؤثر مذاکرات کو نقصان پہنچا ہے، جو نہ امریکا کے مفاد میں ہے اور نہ عالمی امن کے لیے سودمند۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں واشنگٹن سے اپیل کی کہ وہ مزید اس تنازع میں نہ الجھے، یہ آپ کی جنگ نہیں۔
دریں اثنا عمان کی وزارت خارجہ نے بھی فوجی کارروائیوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے خطے میں جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے اصول کے خلاف ہے، لہٰذا تمام فریق فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کریں۔
I am dismayed. Active and serious negotiations have yet again been undermined. Neither the interests of the United States nor the cause of global peace are well served by this. And I pray for the innocents who will suffer. I urge the United States not to get sucked in further.…
— Badr Albusaidi - بدر البوسعيدي (@badralbusaidi) February 28, 2026
عمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے اور جنگ بندی نافذ کرنے کے لیے واضح مؤقف اختیار کرنے کی اپیل بھی کی۔ ساتھ ہی مزید کہا گیا ہے کہ ہر ملک کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم ضبطِ نفس اور سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
#بيـان | تعرب وزارة الخارجية عن أسف سلطنة عُمان الشديد للعمليات العسكرية التي تشنها إسرائيل والولايات المتحدة الأمريكية ضد الجمهورية الإسلامية الإيرانية، محذرة من خطر توسع الصراع إلى ما لا يحمد عقباه في المنطقة. إن سلطنة عُمان تعتبر هذا العمل عملا يتنافى مع قواعد القانون الدولي… pic.twitter.com/mFPGWMpUVN
— وزارة الخارجية (@FMofOman) February 28, 2026
اُدھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے عالمی امن اور سلامتی پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
The outbreak of war between the United States, Israel, and Iran carries grave consequences for international peace and security.
— Emmanuel Macron (@EmmanuelMacron) February 28, 2026
At this decisive moment, every measure is being taken to ensure the security of our national territory, our citizens,…
انہوں نے ’ایکس‘ پر کہا کہ موجودہ کشیدگی سب کے لیے خطرہ ہے اور اسے رُکنا چاہیے۔ ایرانی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ اب اس کے پاس نیک نیتی سے مذاکرات میں شامل ہونے اور اپنے جوہری و بیلسٹک میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے بھی فوجی کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے بیان میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی ردعمل کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ ہر مسلح تنازع میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں صرف موت، تباہی اور انسانی تکالیف میں اضافہ کریں گی، اس لیے فوری طور پر کشیدگی کم کی جائے۔