خطے میں عسکری کشیدگی میں اضافے اور ایران پر امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی فضائی آمد و رفت کو شدید متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں
200 سے زائد بین الاقوامی ایئرلائنز نے احتیاطی اقدام کے طور پر متعدد خلیجی شہروں کے لیے اپنی پروازیں معطل یا محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلے یورپی، ایشیائی اور امریکی فضائی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ علاقائی ایئرلائنز کی جانب سے مرحلہ وار سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ خلیجی خطہ دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں میں شمار ہوتا ہے اور بعض مخصوص فضائی راستوں سے گریز کی ہدایات
اور وارننگز جاری ہونے کے بعد کمپنیوں نے اپنے مسافروں اور عملے کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
دبئی، دوحہ، ابوظبی، منامہ اور کویت جیسے شہر ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان اہم ٹرانزٹ مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
پروازوں کی معطلی اور کمی کے بعد متعدد ایئرپورٹس پر روانگی اور آمد کے شیڈول میں بڑے پیمانے پر منسوخیاں اور تاخیر دیکھنے میں آئی، جبکہ کئی طویل فاصلے کی پروازوں کو کشیدگی والے علاقوں سے ہٹا کر متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
ماہرینِ ہوابازی کا کہنا ہے کہ خلیج کے اطراف کسی بھی عسکری کشیدگی کا براہِ راست اثر بین الاقوامی فضائی نیٹ ورک پر پڑتا ہے، کیونکہ مشرق اور مغرب کے درمیان بڑی تعداد میں روزانہ پروازیں انہی فضائی حدود سے گزرتی ہیں۔
اس صورتحال میں کمپنیوں کو فوری طور پر اپنے راستوں اور شیڈول کی نئی منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے۔
ہوابازی کے ذرائع کے مطابق یہ اقدامات عارضی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں، اس کا مطلب خلیجی منڈیوں سے مستقل انخلا نہیں ہے۔
موجودہ صورت حال کے پیش نظر ایئرلائنز سول ایوی ایشن حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور جیسے ہی فضائی حالات مستحکم ہوں گے، مرحلہ وار پروازیں بحال کی جائیں گی۔
صورت حال کے نتیجے میں دنیا بھر سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر وہ جو خلیجی ایئرپورٹس کے ذریعے ٹرانزٹ سفر کر رہے تھے۔
مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے متعلقہ ایئرلائن کی ویب سائٹ یا موبائل ایپ استعمال کریں، جبکہ معطلی کی مدت کے دوران بغیر جرمانہ دوبارہ بکنگ یا رقم کی واپسی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔