حالیہ سائنسی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ 7 گھنٹے سے کم نیند لینا صرف تھکن کا سبب نہیں بنتا بلکہ یہ انسانی عمر کے چند سال کم کرنے والا پوشیدہ سبب بھی ہو سکتا ہے۔
اس کے منفی اثرات غذا، ورزش حتیٰ کہ سماجی تنہائی سے بھی زیادہ پائے گئے ہیں۔
العربیہ کے مطابق یہ بات سائنسی ویب سائٹ ScienceDaily کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ مطالعہ امریکہ کی یونیورسٹی آف اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنسز کے محققین نے انجام دیا جو جریدہ SLEEP Advances میں شائع ہوا۔
تحقیق کے مطابق کم نیند لینا متوقع عمر میں کمی سے جڑے مضبوط ترین اشاریوں میں سے ایک ہے البتہ تمباکو نوشی بدستور سب سے خطرناک عامل قرار پائی ہے۔
محققین نے امریکہ کی مختلف کاؤنٹیوں میں طرز
زندگی اور اوسط عمر سے متعلق قومی سطح کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جو مرکز برائے انسدادِ امراض و روک تھام کی جانب سے 2019 سے 2025 کے دوران کیے گئے صحتی سرویز پر مبنی تھے۔
مختلف طرزِ زندگی کے عوامل کا موازنہ کرنے پر نیند، غذا، جسمانی سرگرمی اور حتیٰ کہ تنہائی کے احساس سے بھی زیادہ عمر درازی سے وابستہ عامل کے طور پر نمایاں ہوئی۔
یہ تعلق برسوں کے دوران اور امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں واضح طور پر دیکھا گیا۔
مطالعے کے مرکزی محقق اینڈریو ماکہیل جو یونیور سٹی آف اوریگن کے کالج آف نرسنگ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں نے کہا ہے کہ کم نیند اور متوقع عمر میں کمی کے درمیان تعلق کی شدت حتیٰ کہ نیند کے ماہرین کے لیے بھی حیران کن تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم جانتے تھے کہ نیند صحت کے لیے اہم ہے مگر ہمیں اس قدر مضبوط اثر کی توقع نہیں تھی۔
پیغام بالکل واضح ہے :
جہاں تک ممکن ہو، 7 سے 9 گھنٹے کی نیند حاصل کرنی چاہئے۔
یہ مطالعہ اپنی نوعیت کا پہلا ہے جس میں سال بہ سال اور امریکہ کی تمام ریاستوں کی سطح پر نیند اور اوسط عمر کے تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
اس میں امریکی صحت مراکز کے مطابق مناسب نیند کی تعریف یعنی رات کو کم از کم 7 گھنٹے کو بنیاد بنایا گیا جو امریکی اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کی سفارشات سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ تعلق نہ عارضی تھا اور نہ ہی کسی مخصوص خطے تک محدود بلکہ وقت اور علاقوں کے ساتھ مستقل رہا۔
اگرچہ مطالعے میں اس تعلق کے پسِ پردہ حیاتیاتی عوامل پر براہِ راست بحث نہیں کی گئی تاہم محققین کا کہنا ہے کہ نیند دل کی صحت، مدافعتی نظام کی تنظیم، دماغی افعال اور خلیات کی مرمت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ماکہیل نے وضاحت کی کہ نیند کو اکثر ایسا عمل سمجھا جاتا ہے جسے مؤخر کیا جا سکتا ہے یا ہفتہ وار تعطیلات میں پورا کر لیا جائے جو کہ غلط تصور ہے۔
ان کے مطابق:
’نیند کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ طویل مدتی صحت کی ایک بنیادی ستون ہے بالکل غذا اور ورزش کی طرح‘۔
مطالعہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مناسب نیند نہ صرف روزمرہ زندگی کے معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ عمر درازی میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
تیز رفتار طرزِ زندگی اور کام کے دباؤ کے دور میں محققین کم نیند کو نظر انداز نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہیں اور اسے ایک خاموش مگر سنگین صحتی خطرہ قرار دیتے ہیں جس پر سنجیدگی سے توجہ دینا ضروری ہے۔