جدہ فلکیاتی سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ کل ہفتہ کی شام 2026 میں پہلی بار چاند براہِ راست مسجد الحرام کے عین اوپر (سیدھ میں) نظر آئے گا۔ یعنی چاند خانہ کعبہ کے مقام کے عین اوپر تقریباً عمودی حالت میں ہوگا۔
مزید پڑھیں
سوسائٹی کے صدر انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے بتایا کہ کسی آسمانی جسم کا کسی مقام کی سیدھ میں آنا اس وقت ہوتا ہے جب وہ اس مقام کے اوپر آسمان میں اپنی بلند ترین جگہ پر پہنچ جائے۔
انہوں نے بتایا کہ کل چاند مکہ مکرمہ کے اوپر کے لیے اپنی زیادہ سے زیادہ بلندی پر ہوگا، جس کے باعث زمین کے کسی بھی مقام سے چاند کی سمت دیکھنے پر نظر کا رُخ کعبہ کی جانب ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مشاہداتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چاند کی اصل بلندی تقریباً 89.98 درجے ہوگی۔
یعنی وہ تقریباً سر کے عین اوپر ہوگا، تاہم مکمل عمودی زاویہ 90 درجے ہوتا ہے، اس لیے صرف ایک منٹ قوس کا معمولی فرق ہوگا، جو عملی طور پر نہایت کم سمجھا جاتا ہے ۔
ابو زاہرہ کے مطابق فلکیاتی حساب سے چاند کا سیدھا زاویہ تقریباً 8 گھنٹے 38 منٹ اور 26 سیکنڈ پر ہوگا، جو آسمان میں اس کی درست پوزیشن ظاہر کرتا ہے۔ اس لمحے چاند مکہ کے مقامی نصف النہار یعنی عین وسطی لکیر پر ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت چاند زمین سے تقریباً 374,187 کلومیٹر دور اور اس کا روشن حصہ تقریباً 91 فیصد ہوگا۔ اس کا ظاہری قطر تقریباً 0.53 ڈگری ہوگا، جو آنکھ سے دیکھنے پر تقریباً سورج کے برابر دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منظر اس وقت پیش آئے گا جب چاند برج سرطان میں موجود ستاروں کے جھرمٹ ’نثرہ‘ کے قریب ہوگا اور دوربین کے ذریعے دونوں کو ایک ہی منظر میں دیکھا جا سکے گا، جس سے اس جھرمٹ کے ستاروں کی چمک میں فرق واضح طور پر محسوس کیا جا سکے گا۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس طرح کا موقع روایتی طور پر قبلہ کی سمت معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ اس لمحے دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص چاند کی سمت دیکھ کر تقریباً درست انداز میں مکہ مکرمہ کی سمت متعین کر سکتا ہے۔