مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس اور مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان نے جمعہ کے خطبات میں مسلمانوں کو رمضان المبارک سے بھرپور فائدہ اٹھانے، تقویٰ اختیار کرنے اور نیک اعمال میں سبقت لینے کی تلقین کی ہے۔
مزید پڑھیں
شیخ السدیس نے مسجد الحرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ ایمان کو مضبوط بنانے، کردار سنوارنے اور زندگی کو بہتر رخ دینے کا عظیم موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے روزہ اس لیے فرض کیا تاکہ انسان میں تقویٰ پیدا ہو، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے: ’اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بنو‘۔
انہوں نے کہا کہ تقویٰ ہی روزے کا اصل مقصد ہے اور اسی سے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح ممکن ہے۔
شیخ عبدالرحمن السدیس نے اپنے خطبے میں واضح کیا کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رُکنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل عبادت ہے جو انسان کے اخلاق، زبان، نگاہ اور رویّے کو سنوارتی ہے۔
انہوں نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص جھوٹ اور بُرے عمل کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی ضرورت نہیں۔ اصل روزہ وہ ہے جو قول و فعل میں سچائی اور اچھے کردار کی صورت میں نظر آئے۔
امام مسجد الحرام نے رمضان کو قرآن، ذکر اور رات کی عبادت کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مہینے میں قرآن سے تعلق مضبوط کرنا دلوں کی ہدایت اور ایمان میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ رمضان وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل تبدیلی کا آغاز ہونا چاہیے۔ نیک عمل خواہ کم ہو مگر مستقل ہو تو اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روزہ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانا سکھاتا ہے، دل کو صاف کرتا ہے اور دین، جان، عقل، مال و عزت کی حفاظت کا شعور پیدا کرتا ہے۔
اپنے خطاب میں شیخ السدیس کا مزید کہنا تھا کہ رمضان سخاوت اور دوسروں کی مدد کا مہینہ بھی ہے، جیسا کہ نبی کریمﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے۔ اس لیے ضرورت مندوں کی مدد، رشتہ داروں سے تعلق اور خیر کے کاموں میں حصہ لینا اس مہینے کی اہم خصوصیات ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ رمضان کا اثر اس کے بعد بھی باقی رہنا چاہیے ۔ عبادت کو صرف ایک مہینے تک محدود نہ رکھا جائے۔
مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ
دوسری جانب مسجد نبوی میں خطبہ دیتے ہوئے شیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان نے بھی مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کی، جس کی تاکید اللہ تعالیٰ نے پہلے لوگوں اور بعد والوں سب کو کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کی اطاعت ہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے اور اس کی رضا سب سے بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے رمضان کو رحمتوں اور برکتوں کا موسم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
شیخ البعیجان نے کہا کہ اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور جو اس کی خیر سے محروم رہا وہ حقیقت میں محروم رہا۔
انہوں نے مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ رمضان کے دنوں اور راتوں کو نماز، روزہ، قرآن کی تلاوت، ذکر، دعا، استغفار، صدقہ، مسکینوں کو کھانا کھلانے اور صلہ رحمی جیسے اعمال میں گزاریں۔
شیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان نے غفلت سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو معلوم نہیں کہ آئندہ رمضان نصیب ہوگا یا نہیں، اس لیے نیک اعمال میں جلدی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر اور جوانی کے بارے میں سوال ہوگا کہ اسے کہاں خرچ کیا، اس لیے وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اللہ کی رضا کے لیے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کا فضل وسیع ہے اور جو بندہ اس کی طرف بڑھتا ہے اللہ بھی اس کے قریب ہو جاتا ہے۔
دونوں ائمہ نے اپنے خطبات میں اس بات پر زور دیا کہ رمضان کو عبادت، اصلاح اور مستقل نیکی کا نقطۂ آغاز بنایا جائے تاکہ اس کے روحانی اثرات پوری زندگی پر جاری رہیں۔