معروف سعودی عالم دین شیخ عبدالمحسن العبیکان نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں عمرہ کی تکرار خلاف سنت مبارکہ ہے۔
جو لوگ رمضان المبارک میں زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لئے عمرہ کی تکرار کرتے ہیں وہ غلط اور سنت طیبہ کیخلاف کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں عمرہ کی تکرار کا ثبوت ہمیں سلف صالحین سے نہیں ملتا جبکہ امام مالکؒ نے ایک سال میں ایک سے زائد مرتبہ عمرہ کرنے کو پسند نہیں فرمایا۔
انہوں نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں لوگ زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے بار بار عمرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسکا ثبوت سنت طیبہ میں موجود نہیں۔
رسول اکرمﷺ نے بھی عمرے ادا فرمائے مگر ایک عمرے سے دوسرے عمرے کے درمیان طویل عرصہ تھا۔
جمہور علماء کے نزدیک ایک سال کے دوران کئی عمرے کئے جاسکتے ہیں تاہم ایک ماہ میں اس کی تکرار کا کوئی ثبوت نہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور دیگر ائمہ کا کہنا ہے کہ:
آفاقی اور مکی کے لئے مناسب نہیں کہ مکہ مکرمہ میں موجود ہو پھر خاص عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ سے باہر جائے۔
بیت اللہ کا طواف عمرہ کے اہم ترین ارکان میں سے ایک ہے۔
اسے چاہئے کہ وہ طواف کثرت سے کرے۔
اس حوالے سے رسول اکرمﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے لئے خصوصی رعایت فرمائی تھی کہ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر کو حکم فرمایا کہ انہیں تنعیم لے جائیں اور عمرہ کرائیں۔
اسی طرح وہ شخص بھی بحالت مجبوری تکرارِ عمرہ کرسکتا ہے جو دور دراز ممالک سے آیا ہو اور اپنا عمرہ کرنے کے بعد اپنے فوت شدہ اعزہ کی طرف سے عمرہ کرنا چاہتا ہو۔
تاہم مملکت میں رہنے والے لوگوں میں تکرار ِعمرہ کا جو رجحان پیدا ہوگیا ہے وہ خلافِ سنتِ مبارکہ ہے۔
علاوہ ازیں بعض لوگ رمضان المبارک کی 27 ویں شب میں خصوصی طور پر عمرہ کرتے ہیں۔
اس حوالے سے یہ بات تمام افراد کے ذہن نشیں ہونی چاہئے کہ شب قدر متعین نہیں۔
اتنی بات ہے کہ یہ رمضان کریم کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے بلکہ صحیح ترین اقوال یہ ہیں کہ شب قدر ان طاق راتوں میں بھی ہر سال اللہ کی مشیت سے بدلتی رہتی ہے۔
کسی سال 21 ویں رات ہوگی تو اگلے سال 25 ویں یا 27 ویں یا 29 ویں ہوسکتی ہے۔
اس رات کو عمرہ کرنے کی فضیلت کا ذکر نہیں۔
رسول اکرمﷺ نے اس رات کو قیام کرنے کی ترغیب فرمائی ہے۔