سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں بعض لوگ نمازِ تراویح تو امام کے ساتھ پڑھتے ہیں اور جب وتر کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو الگ ہو جاتے ہیں۔
اور یہ محض اس بنا پر کہ یہ امام صاحب ہمارے طریقہ ’مسلک‘ کے مطابق وتر نہیں پڑھاتے یعنی نمازِ وتر کی پہلی دو رکعتیں ’شفع‘ الگ پڑھ کر سلام پھیر کر پھر تیسری رکعت ’وتر‘ الگ پڑھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
جبکہ تین رکعاتِ وتر کو ادا کرنے کے یہ دونوں طریقے ہی ثابت ہیں جن میں سے پہلا طریقہ 3 رکعتوں کو اکٹھے ہی ایک سلام سے ادا کرنے والا ہے اور یہ صرف ایک ہی تشہد سے ہے، درمیانی قعدہ ثابت نہیں۔
دوسرا طریقہ دو سلاموں والا ہے اور یہ طریقہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے، لہٰذا اگر کوئی امام دو سلاموں سے 3 رکعتیں پڑھاتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی نمازِ وتر باجماعت ادا کرلینی چاہئے۔
ویسے بھی جب یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’چاروں امام بر حق ہیں‘ تو پھر کسی بھی امام کے پیچھے کوئی بھی نماز ادا کرنے سے گریز کیوں کیا جائے؟
خاص طور پر جبکہ یہ دو سلاموں والا طریقہ بھی حدیثِ رسولﷺ سے ثابت ہے۔
اگر وہ اس بنا پر الگ ہوجاتے ہیں کہ پہلے 20 رکعتیں پوری کرلیں اور پھر وتر پڑھیں گے تو بھی اُنہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ وتر امام کے ساتھ پڑھ لینے چاہئیں کیونکہ اس طرح انہیں ان کی جماعت اور اس کا ثواب مل جائے گا اور یہ ہیں بھی تراویح سے اہم ترین لہٰذا اگر مسنون 8 رکعاتِ تراویح کے بعد 12 رکعتیں مزید بھی پڑھ کر ضرور 20 ہی کرنا چاہیں تو وہ الگ سے، رات کے کسی بھی حصہ میں، مسجد میں یا گھر جاکر پڑھی جاسکتی ہیں حالانکہ صحیح تر بات صرف مسنون عدد پر اکتفا کرنا ہی ہے جیسا کہ تفصیل گزری ہے۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں وزارتِ امور اسلامیہ کے تحت کام کرنے والے ائمہ مساجد کی غالب اکثریت نمازِ وتر دو سلاموں سے ہی ادا کرتی ہے، اگرچہ ان ائمہ میں سے پاک و ہند اور بنگلادیش سے آئے ہوئے بکثرت پیش امام فقۂ حنفی کے پابند ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود وہ بھی دو سلاموں والے طریقہ سے ہی 3 رکعاتِ وتر پڑھاتے ہیں۔
اب یہ کہنا تو مناسب نہ ہوگا کہ اس معاملہ میں وہ اپنے عرب مقتدیوں سے ڈرتے یا ان کی خواہش کے مطابق چلتے ہیں، یہ خیال ’حُسنِ ظن‘ کے خلاف ہے۔
لہٰذا یہ کہنا ہی زیادہ مناسب ہے کہ وہ فقۂ حنفی کے پابند ہونے کے باوجود 3 میں سے دو رکعتیں الگ اور تیسری الگ سلام سے پڑھتے ہیں کیونکہ وہ وسعتِ ظرفی کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ بھی یقینا ثابت اور جائز و درست ہے۔
لہٰذا اُنہی کی طرح ہمیں بھی وسیع الظرف ہونے کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور دو سلاموں کے ساتھ نمازِ وتر پڑھانے والے امام کی اقتدا میں باجماعت نمازِ وتر ادا کر لینی چاہئے خصوصاً جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ چاروں امام اور چاروں مذاہب ہی برحق ہیں اور جب یہ چاروں برحق ہیں تو ایسے موقع پر اُس امام کے پیچھے نمازِ وتر ادا نہ کرکے آپ نے عملاً اپنے اس دعوے کی گو یا تردید کردی۔