سعودی ڈاکٹر فہد الخضیری نے بچوں کے لیے تیار کی جانے والی بعض اقسام کی چپس کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ تنبیہ اس واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایک بچی کو پیٹ میں شدید درد، متلی اور قے کے باعث ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرنا پڑا۔
بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس نے ایسی چپس کھائی تھی جو مضر صحت کیمیائی مواد سے بھری ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں
ڈاکٹر الخضیری نے وضاحت کی ہے کہ بچوں کے لیے موزوں چپس کے بارے میں انہیں بہت سے سوالات موصول ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صحت بخش اقسام وہ ہیں جو غیر ہموار اور بے ترتیب شکل میں کٹی ہوئی آلو کی سلائسز پر مشتمل ہوتی ہیں جن کی ظاہری شکل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ قدرتی آلو سے بنی ہوئی ہیں۔
اس کے برعکس انہوں نے یکساں شکل و صورت والی اور نہایت ترتیب سے جمی ہوئی شیبسات سے خبردار کیا کیونکہ عموماً یہ آلو جیسے مرکبات سے دوبارہ تشکیل دی جاتی ہیں اور ان کی تیاری میں مضر کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر الخضیری نے یہ بھی بتایا کہ آلو کی سلائسز کی بعض اقسام محفوظ ہوتی ہیں، جو سبز رنگ کے پیکٹ میں نمبر (1) کے ساتھ دستیاب ہوتی ہیں اور بغیر کسی اضافے کے صرف قدرتی آلو پر مشتمل ہوتی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مقامی صنعت کی پیداوار ہیں، قیمت کے لحاظ سے مناسب اور درآمد شدہ تیار شدہ اقسام کے مقابلے میں کم خرچ ہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بعض عالمی برانڈز میں کیمیائی مرکبات، ذائقہ بڑھانے والے اجزا، بہتری لانے والے مادے، رنگ، مرچیں اور نمک کی زیادہ مقدار شامل ہوتی ہے، نیز گلوتامیٹ جیسی اشیا بھی شامل کی جاتی ہیں، جو ذائقے اور شکل کے اعتبار سے بچوں کو زیادہ لبھاتی ہیں لیکن صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
آخر میں انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ تیار شدہ اور دوبارہ تشکیل دی گئی چپس سے پرہیز کریں اور صرف اصلی آلو سے بنی ہوئی ہلکے نمک والی اقسام کو ترجیح دیں تاکہ بچوں کی صحت اور سلامتی محفوظ رہ سکے۔