طارق مشخص
اردو نیوز کے سابق ایڈیٹر انچیف۔ البلاد
کیا ہم میں سے بعض لوگ احساسِ ذمہ داری سے محروم ہوتے جا رہے ہیں؟
ہمارے اردگرد کچھ لاپرواہ افراد کو دیکھتے ہیں جو انتہائی بے احتیاطی سے گاڑیاں چلاتے ہیں، نہ اپنی جان کی پروا کرتے ہیں اور نہ دوسروں کی سلامتی کی۔
ایسا شخص یہ نہیں سوچتا کہ وہ خود زخمی ہو سکتا ہے یا دوسروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا یہ کہ وہ بعض خطرناک مشاغل اختیار کرتا ہے جو ایسی چوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں جو جان لیوا بھی ثابت ہوں۔
مزید پڑھیں
کچھ لوگ جب کسی حادثے کی خبر سنتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ وہ خود یا ان کا کوئی عزیز بھی اس حادثے کا شکار ہو سکتا تھا۔ وہ صرف اپنے غرور کی تسکین اور اپنے خطرناک شوق کی تکمیل کے بارے میں سوچتے ہیں۔
یہ دراصل خود غرضی کی ایک شکل ہے کیونکہ وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ان کے والدین اور پیارے کس قدر اذیت
میں مبتلا ہوں، اور یہی بات دوسروں پر بھی صادق آتی ہے۔
یہ سمجھنا غلط ہے کہ ذمہ داری کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب انسان بڑا ہو جاتا ہے یا کسی اہم منصب پر فائز ہو جاتا ہے۔
درحقیقت ذمہ داری ایک ایسی قدر ہے جو بچوں میں اس وقت سے بوئی جاتی ہے جب ان پر نماز کی پابندی لازم کی جاتی ہے۔
اگر ہم بچوں کی تعلیم پر نظر رکھتے ہیں، ان کی پڑھائی اور امتحانات کی تیاری میں دلچسپی لیتے ہیں، تو ہمیں انہیں دنیا کے امتحانات کے لیے بھی تیار کرنا چاہیے۔
جب بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ وہ اپنے کھلونوں کا ذمہ دار ہے اور انہیں سنبھال کر رکھتا ہے تو کچھ بڑا ہو کر اپنی تعلیم اور امتحانی نتائج کا ذمہ دار بنتا ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو تو انعام پاتا ہے اور اگر ناکام ہو تو اس کا احتساب ہوتا ہے۔ وہ اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔
اور جب وہ کسی بھی درجے کا ملازم بنتا ہے تو اسے سونپے گئے کاموں کا ذمہ دار ہوتا ہے، اور جوں جوں اس کا منصب بلند ہوتا جاتا ہے، اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ اسے یہ جاننا چاہیے کہ وہ ہر اس امانت کے بارے میں اللہ کے حضور جواب دہ ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ وہ لوگوں کے سامنے جواب دہ ہو۔
ڈاکٹر غازی القصیبی کا قول ہے:
مردانگی التزام اور ذمہ داری سے جڑی ہوتی ہے اور یہی وہ صفت ہے جو انسان کو جمادات اور حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔
حالانکہ جانور بھی اپنی اولاد کی حفاظت اور ان کا دفاع کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑے ہو جائیں۔
اور حدیثِ نبوی ﷺ میں فرمایا گیا ہے:
تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔
ہر انسان اپنے مقام پر کچھ فرائض کا حامل ہے جنہیں اسے انجام دینا لازم ہے، اور اس شعور کی ابتدا بچپن سے، گھر سے ہوتی ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کے ساتھ اپنا فرض ادا کریں اور انہیں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ترغیب دیں، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہوں، تو اس سے ایسے افراد کی تشکیل ہوتی ہے جو ذمہ داری کے مفہوم کو سمجھتے ہیں۔
انفرادی ذمہ داریوں کو قبول کرنا ہی ایک مضبوط اور کامیاب معاشرے کی بنیاد ہے۔
جو شخص بچپن میں اور آسودہ حالات میں التزام اور ذمہ داری کا مفہوم سیکھ لیتا ہے، وہ مشکل اور آزمائش کے وقت اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
ہم سب اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں، اور اگر ہم نے کوتاہی کی تو ہم سے ضرور باز پرس کی جائے گی۔