مجلس اقتصادی و ترقی امور نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کیا ہے جس میں متعدد اقتصادی، مالی اور تنظیمی موضوعات و رپورٹس پر غور کیا گیا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق اجلاس کے آغاز میں کونسل نے وزارتِ اقتصاد و منصوبہ بندی کی جانب سے پیش کردہ سہ ماہی رپورٹ کا جائزہ لیا، جس میں عالمی معیشت کی تازہ صورتحال، جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات اور ان کے نمو کے امکانات پر پڑنے والے اثرات کو بیان کیا گیا۔
مزید پڑھیں
رپورٹ میں قومی معیشت کی تازہ پیش رفت اور 2027ء تک کی آئندہ توقعات بھی شامل تھیں۔
رپورٹ میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ قومی معیشت کو عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے میں بلند درجے کی لچک حاصل ہے۔
اقتصادی اشاریے نمایاں نمو کی عکاسی کرتے ہیں، جو مملکت کو دنیا کی تیز ترین نمو پانے والی مستحکم معیشتوں میں شامل کرتے ہیں۔
کونسل نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیش کردہ مالی سال 2025ء کی چوتھی سہ ماہی کی ریاستی بجٹ کارکردگی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا، جس میں اس مدت کے دوران مالی کارکردگی کا جامع خاکہ پیش کیا گیا۔
اس میں آمدنی و اخراجات کی پیش رفت، سرکاری قرض کی سطح اور مقامی و عالمی اقتصادی تغیرات اور ان کے مالی اشاریوں پر اثرات کا تجزیہ شامل تھا۔
رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ متوازن اور لچکدار مالی پالیسی کو بدستور اپنایا جا رہا ہے، جو اقتصادی نمو کی حمایت اور درمیانی و طویل مدت میں مالی استحکام کو فروغ دیتی ہے۔
یہ عمل منضبط اور مؤثر مالیاتی آلات کے استعمال، اقتصادی چکر کے برعکس اخراجات کے تسلسل، اور ترقیاتی پروگراموں و منصوبوں کی جانب وسائل کی مؤثر رہنمائی کے ذریعے جاری ہے، جس سے عوامی خدمات کے معیار میں بہتری، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور مالیاتی استحکام کو تقویت ملتی ہے۔