وزارتِ اسلامی امور اور دعوت و ارشاد نے ائمہ مساجد کی جانب سے نمازِ تراویح میں سنت طریقے پر عمل کرنے کے جذبے کو سراہتے ہوئے تاکید کی ہے دعائے قنوت میں جامع اور مختصر دعاؤں پر اکتفا کیا جائے۔
مزید پڑھیں
وزارت کے مطابق یہ طرزِ عمل نبی کریمﷺ کی سنت کی پیروی، نمازیوں کا خیال رکھنے اور انہیں مشقت سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے وزارت نے وضاحت کی ہے کہ یہ رہنمائی مساجد کے تقدس اور عبادت میں خشوع و سکون برقرار رکھنے کے لیے دی جا رہی ہے، تاکہ رمضان کے دوران عبادات شرعی اصولوں کے مطابق ادا کی جا سکیں۔
بیان میں نمازی مرد و خواتین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے کم عمر بچوں کو مسجد نہ لائیں جو ابھی اچھے برے کی تمیز نہیں رکھتے اور مسجد کے احترام سے واقف نہیں۔
وزارت کے مطابق ایسے بچوں کی موجودگی بعض اوقات شور یا خلل کا سبب بن سکتی ہے، جس سے نمازیوں کی توجہ اور یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔
وزارت نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کی عبادات اور اچھے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی پسندیدہ راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔