اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

صدام حسین سے مادورو تک

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Picture of عبد الرحمن الراشد

عبد الرحمن الراشد

سینئر سعودی تجزیہ نگار۔ الشرق الاوسط

وینزویلا کے دو سابق رہنما شاویز اور اس کے جانشین مادورو، باغی اور سرکش شخصیات جیسے صدام حسین، خمینی اور قذافی سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ 

یہ سب اپنی جوشیلی تقاریر، عوامی جذبات بھڑکانے والے نعروں اور صفر درجے کی عملی کامیابیوں کے باعث مشہور رہے۔

کون بھول سکتا ہے اقوامِ متحدہ کے منبر پر شاویز کا وہ جملہ جب اس نے امریکی صدر جارج بش جونیئر کے بارے میں کہا تھا :
یہاں اب بھی گندھک کی بو ہے، شیطان یہاں سے ہو کر گیا ہے۔

یہ سب ڈان کیشوٹ جیسے فرضی معرکوں میں الجھے رہے مگر زمینی حقیقت میں اپنے دورِ اقتدار کے بیشتر سال محاصرے میں گزارے اور بالآخر شکست خوردہ انجام کو پہنچے۔

خطابت کے ماہر شاویز کے بعد مادورو اقتدار میں آیاJ ایک سادہ آدمی، بس ڈرائیور، جو مزدور یونین میں کام کرتا رہا۔ 

اس نے اقتدار وراثت میں پایا اور اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چل پڑا۔ 

اس کا پسندیدہ موضوع امریکہ پر طنز و تمسخر تھا۔ 

وہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے نئے ’قیصر‘ کی شخصیت کو درست طور پر سمجھ نہ سکا۔ 

اس نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو سنجیدہ نہ لیا اور یہ سمجھتا رہا کہ ٹرمپ ایسا نہیں کرے گا۔ 

اس نے خود کو محل میں محصور کر لیا اور اسے ہتھیاروں سے لیس چھاؤنی میں بدل دیا۔

مزید پڑھیں

پھر وہی ہوا جو 2003 میں صدام حسین کے ساتھ ہوا تھا، جب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ امریکی فوج کے قافلے دریائے دجلہ کے کنارے بغداد کے وسط سے گزر رہے ہیں۔ 

وہ عجلت میں تکریت فرار ہوا، ایک دوست کے کھیت میں گڑھے کے اندر چھپ گیا مگر جلد ہی اس کے اپنے ہی ایک آدمی نے اسے امریکیوں کے حوالے کر دیا، اور وہ گرفتار ہو گیا۔

312132

وینزویلا کے صدر کو بھی اسی طرح ’پاجامہ‘ میں گرفتار کر کے نیویارک لے جایا گیا، جہاں اس کا انجام نیویارک کی جیل بنا۔ 

ٹرمپ نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ مادورو کا انجام دوسرے رہنماؤں کے لیے سبق ہے۔ 

اس نے کیوبا اور کولمبیا کے رہنماؤں اور میکسیکو کی صدر کو خبردار کیا کہ وہ منشیات اسمگل کرنے والی گینگز کو کھلی چھوٹ نہ دیں۔

لاطینی امریکی عوام بھی عرب دنیا کی طرح ہیں اور وہ بھی 20 کے قریب ممالک پر مشتمل ہیں جہاں بعض ریاستیں خود پسند، نرگسی عوامی لیڈروں کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ 

یہ رہنما دہائیوں تک خیالی دشمنوں سے لڑتے رہتے ہیں، اپنی سیاست سازشی نظریات پر اور اپنے میڈیا کو تاریخ کے کھنڈرات پر نوحہ گری پر قائم رکھتے ہیں اور نتیجتاً اپنے ممالک کی صلاحیتوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔

32321321
لاطینی امریکی میں بعض ریاستیں خود پسند، نرگسی لیڈروں کے عذاب میں مبتلا ہیں

مجھے ذاتی طور پر اس کا مشاہدہ ہوا۔ میں 2007 میں کاراکاس گیا تھا۔ اس وقت یہ شہر ہمیں خوبصورت اور صاف ستھرا لگا، کم از کم التامیرا کے علاقے میں جہاں ہم ٹھہرے تھے اور شہر کے کنارے جبلِ آفیلا کے علاقے میں بھی۔ 

مگر کچی آبادیوں کا پھیلاؤ خوفناک تھا۔ ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ یہ وہ مہاجر ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں روزی کی تلاش میں اس تیل سے مالا مال ملک میں آئے تھے۔

جلد ہی انقلابی حکومت کی پالیسیوں کے باعث معاشی حالات بگڑ گئے اور شہر میں مسلح گروہوں کا ظہور ہوا۔ 

یہ پولیس نہیں تھی بلکہ عمارتوں کی حفاظت پر مامور نجی مسلح جتھے تھے، جنہیں ہم اپنے ہوٹل کے پارکنگ کے داخلی دروازے پر دیکھتے تھے۔ 

اس وقت ایک ڈالر کی قیمت دو بولیوار تھی مگر شاویز اور پھر مادورو نے اپنے ملک کی معیشت تباہ کر دی یہاں تک کہ ڈالر 500 بولیوار تک پہنچ گیا۔ غربت کے باعث پچاس لاکھ سے زائد وینزویلائی ملک چھوڑ کر ہجرت کر گئے۔

6446456

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیل سے مالا مال ملک وینزویلا کیوں براعظم کی جنگوں میں خود کو جھونک دیتا ہے اور اس کا صدر ایسے وقت میں انقلابی بننے پر کیوں اصرار کرتا ہے جب سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی انقلابات کا دور ختم ہو چکا تھا؟ 

یہ صورتِ حال مجھے بہت حد تک لیبیا کی یاد دلاتی ہےـ ایک امیر مگر غریب ملک۔

گرفتار ہونے والے مادورو کی سب سے بڑی نفسیاتی گرہ شاویز تھا۔ 

اس نے دس سال سے زائد عرصہ حکومت کرتے ہوئے اسے نقل کرنے کی کوشش کی۔ 

مادورو ایک سادہ شخص ہے جبکہ شاویز ایک گہری اور انتہا پسند آیدیولوجی کا حامل تھا۔ 

اس نے ایک تیل سے مالا مال ملک میں انقلابی نظریے کو جواز دیا، امریکی کمپنیوں کو نکالا اور سرمایہ کاری کو قومی تحویل میں لے لیا۔ 

شاویز ایک فصیح خطیب تھا، جو اپنے خیالات کو عوامی خطابات میں بدلنے پر قادر تھا۔ 

وہ ایک تعلیم یافتہ شخص تھا، جس نے خود کو شعرا اور ادبا سے گھیر رکھا تھا۔ 

وہ ناول نگار گابریئل گارسیا مارکیز کا دوست تھا اور خود کو تاریخی وینزویلائی علامت سیمون بولیوار کے برابر سمجھتا تھا۔ 

یہاں تک کہ صدر ہونے کے باوجود اس نے ہفتہ وار ٹی وی پروگرام پیش کیا، جس میں وہ 8 گھنٹے تک مسلسل بولتا رہتا تھا۔

32321132

یقیناً، باتوں اور زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق تھا کیونکہ فقر، بیروزگاری اور گرفتاریاں بڑھتی چلی گئیں۔

شاویز 58 برس کی عمر میں کینسر کے باعث کیوبا کے ایک اسپتال میں انتقال کر گیا اور کہا جاتا ہے کہ اسے زہر دیا گیا تھا۔ 

اس کے بعد مادورو اقتدار میں آیا، جو ایک بس ڈرائیور رہ چکا تھا، غیر تعلیم یافتہ اور بے جان زبان کا حامل اور اس نے شاویز کی سیاسی نقل تو کی مگر اس کی خطیبانہ صلاحیتوں کے بغیر۔

ٹرمپ دوبارہ صدر بن کر آیا اور وہ وائٹ ہاؤس کے سابقہ سربراہان سے بالکل مختلف صدر ہے۔ 

اسے بتایا گیا کہ وینزویلا، جو ہمیشہ امریکا کا دوست رہا، 20 سال سے زائد عرصے سے اس کے پہلو میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔ 

اس نے ایران، روس اور چین جیسے امریکہ کے دشمنوں سے تعاون کیا اور منشیات کی سب سے بڑی سرپرست ریاست بن گیا۔ 

کہا گیا کہ اس سے پہلے آنے والے امریکی صدور نے صرف اقتصادی پابندیوں اور سیاسی تنہائی پر اکتفا کیا تھا مگر ٹرمپ نے وقت ضائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک ہی رات میں معاملہ نمٹا دیا۔ 

اس نے نظام تبدیل نہیں کیا صرف مادورو کو نشانہ بنایا اور اس کی نائب صدر کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

سرکش رہنماؤں کو کاراکاس میں جو کچھ ہوا اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔