اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

یمنی مسئلے کے حل کے لیے ریاض کانفرنس

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Picture of عبد اللہ بن بجاد العتیبی

عبد اللہ بن بجاد العتیبی

سعودی تجزیہ نگار۔ الشرق الاوسط

یمنی ریاست طویل عرصے تک اختلافات اور انتشار، خونریز فوجی بغاوتوں اور شمال و جنوب کے درمیان جنگوں کا شکار رہی، یہاں تک کہ وحدت قائم ہوئی، پھر حالات اس نہج پر پہنچے کہ ’حوثی ملیشیا‘ نے شمالی یمن میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 

ان تمام دہائیوں کے دوران سعودی عرب یمن کے استحکام اور اس کے عوام کی حمایت میں سب سے بڑا سہارا رہا، خواہ ان کے اختلافات ہوں، تنوع ہو، مسلکی و مذہبی وابستگیاں ہوں یا قبائلی و علاقائی نسبتیں۔ 

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے لیے کسی دلیل کی حاجت نہیں کیونکہ جدید تاریخ اس کی گواہ ہے۔

مزید پڑھیں

اسی ثابت شدہ اور مسلسل سعودی طرزِ عمل کے تسلسل میں، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ایکس پر تحریر کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ :
’جنوبی مسئلے کے لیے اب ایک حقیقی راستہ وجود میں آ چکا ہے جس کی سرپرستی سعودی عرب کر رہا ہے اور جسے ریاض کانفرنس کے ذریعے بین الاقوامی برادری کی تائید حاصل ہے۔

 اس کانفرنس کے ذریعے ہم اپنے جنوبی بھائیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ منصفانہ حل کے لیے جامع تصور پیش کیا جا سکے جو ان کی خواہشات اور امنگوں کی تکمیل کرے‘۔
سعودی عرب نے کبھی بھی جنوبی یمن کے عوام کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا اور اسی تناظر میں ’ریاض کانفرنس‘ منعقد کی گئی تاکہ جنوبی باشندوں کے تمام طبقات اور وابستگیوں کے مابین جس بات پر اتفاق ہو، اسے ایک ایسے سیاسی راستے کے تحت سہارا دیا جائے جو شرعی حیثیت کا حامل اور اسی کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ 

یہ ایک نہایت پیچیدہ اور الجھی ہوئی مشکل کے لیے بہترین حل کی راہ ہے۔ 

اسی لیے ’جنوبی عبوری کونسل‘ کی قیادت کا کونسل کو مکمل طور پر تحلیل کرنے اور سعودی حمایت یافتہ سیاسی و قانونی عمل میں شامل ہونے کا اعلان دانشمندانہ اور جرأت مندانہ فیصلہ تھا۔

جدید تاریخ میں، دوسری جنگِ عظیم کے دوران، دو بڑے اتحاد وجود میں آئے۔ 

پہلا ’محور ممالک‘ کا اتحاد، جس میں جرمنی، اٹلی، جاپان اور ان کے اتحادی شامل تھے اور دوسرا ’اتحادی ممالک‘ کا اتحاد، جس میں سوویت یونین، یورپی ممالک اور امریکا شامل تھے۔ 

جنگ کا اختتام اتحادیوں کی فتح اور محور ممالک کی شکست پر ہوا

 اور اس کے ساتھ ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ’اقواممتحدہ‘، ’سلامتی کونسل‘ اور دیگر بین الاقوامی ادارے قائم ہوئے تاہم کامیابی کے بعد خود اتحادی ممالک کے درمیان مفادات کے حصول اور مستقبل کی تشکیل پر شدید اختلافات پیدا ہوئے جو تاریخ کے منطق، سیاست کی فطرت اور مختلف امنگوں کا ایک فطری نتیجہ تھے۔ 

یہی اختلافات بعد ازاں ’سرد جنگ‘ میں تبدیل ہوئے جو دہائیوں تک جاری رہی اور پانچوں بر اعظموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

سیاسی اختلافات اکثر ایسے تصادمات کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو مفادات، نفع و نقصان، قوت و کمزوری، اثر و تاثر، سیاسی امنگوں، اسٹریٹجک اتحادوں اور خود انحصاری کے گرد گھومتے ہیں۔ 

یہ اختلافات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، بدلتے رہیں گے کیونکہ تاریخ کے دھارے، جغرافیے کی وسعت اور سیاست کی فطرت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔

فیصلہ کن اور سخت سیاسی موقف کے لمحات میں جہاں سیاسی حسابات مسلح تصادم اور جنگ کے خدشات سے جڑ جاتے ہیں، کسی بھی شہری کے لیے غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ 

ایسے وقت میں واحد درست موقف وطن، ریاست اور قیادت کے ساتھ غیر مشروط وفاداری ہے، بغیر کسی تذبذب یا دو رخی کے۔

پورا مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک بڑے از سرِ نو تشکیل کے مرحلے سے گزر رہا ہے، انڈیا اور پاکستان سے لے کر ایران، عراق، شام، لبنان، فلسطین، اسرائیل اور مصر تک، پھر لیبیا اور مغربِ عربی تک، جہاں الجزائر اور مراکش کے درمیان تاریخی کشمکش اور مراکشی صحرا کا مسئلہ موجود ہے۔
جنوب کی جانب سوڈان جو پہلے تقسیم ہوچکا تھا، اب دوبارہ فوج

اور ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ کے درمیان خونریز تصادم میں تقسیم کے خطرے سے دوچار ہے۔ 

اسی طرح صومالیہ، جس سے ’صومالی لینڈ‘ الگ ہو چکا ہے، جسے حال ہی میں اسرائیل نے تسلیم کیا، جس سے بحیرۂ احمر کے شمال و جنوب میں اثر و رسوخ کے حوالے سے اسرائیلی خواہشات پر وسیع بحث چھڑ گئی۔ 

یہ وہی خطہ ہے جہاں اس سے قبل ایران اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا اور ترکی نے فوجی اڈے قائم کرنے کی سعی کی۔ 

اس خطے میں اسٹریٹجک کشمکش تجارتی اور لاجسٹک تنازعات سے کم خطرناک نہیں اور یہ سعودی عرب کی جنوبی و مغربی سرحدوں سے متصل ہے جبکہ سعودی سرحدیں ایک سرخ لکیر ہیں جیسا کہ مملکت نے قولاً اور عملا واضح کیا ہے۔

یمن کی سب سے بڑی اور اہم حامی ریاست، دہائیوں سے، بلا کسی اختلاف کے، سعودی عرب ہی ہے۔ 

یہی وہ ملک ہے جس کی یمن کے ساتھ سیکڑوں کلومیٹر طویل سرحد عمان کی سرحد سے لے کر بحیرۂ احمر تک پھیلی ہوئی ہے۔ 

یمن، سعودی عرب کے لیے ایک اسٹریٹجک، سکیورٹی اور تاریخی گہرائی رکھتا ہے اور اسی بنا پر سعودی عرب یمن کے ماضی، حال اور مستقبل میں پیش آنے والے ہر معاملے میں سب سے زیادہ فریق ہے۔ 

یمن کا مستقبل صرف اس کے مخلص فرزندوں اور ان قیادتوں کے ہاتھوں میں لکھا جائے گا جو شرعی حیثیت کی نمائندگی کرتی ہیں نہ کہ کسی بھی رنگ و شکل کی ملیشیاؤں کے ذریعے۔ 

یہی وہ قوتیں ہیں جنہیں علاقائی اور عالمی سطح پر برادر و دوست ممالک کی حمایت حاصل ہے، اور ان سب کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے۔

آخر میں اضطراب اور انتشار کے ادوار میں منصفانہ حل اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب تمام فریق کچھ نہ کچھ قربانی دیں اور ایسے مفاہمتی راستے اختیار کریں جو بالآخر ایک خود مختار، مستحکم ریاست کے قیام پر منتج ہوں۔