رمضان کا ذکر ہو اور کنافة کا نام نہ آئے، یہ تقریباً ناممکن ہے۔ عرب دنیا میں یہ مٹھائی نہ صرف افطار اور سحری کی شان سمجھی جاتی ہے بلکہ صدیوں پر محیط ایک ثقافتی روایت کی علامت بھی ہے۔
مزید پڑھیں
وقت کے ساتھ عرب دنیا کے مختلف خطوں نے اس مٹھائی میں اپنی اپنی جھلک، ثقافت اور ذائقے و انداز شامل کیے۔ خصوصاً مصر میں کنافة کو نئی شکلیں دی گئیں، جن میں کنافة بلدی، بورمة اور کریم یا قشطة سے بھری ہوئی اقسام شامل ہیں۔
آج کے دور میں یہ صرف ایک میٹھا نہیں بلکہ رمضان کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
’کنافہ‘ نام کی کہانی
کنافة کے نام کی اصل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ لفظ عربی کے ’کُنّافة‘ سے نکلا، جو بُنے ہوئے بالوں یا دھاگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اس نسبت کی وجہ اس کی تیاری کا انداز بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ آٹا باریک دھاگوں کی صورت میں ڈالا جاتا ہے، جو بُنے ہوئے بالوں جیسا منظر پیش کرتا ہے۔
مصر کے ماہر ڈاکٹر مسعود شومان کے مطابق کنافة کا تعلق لفظ ’کنفة‘ سے بھی ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے ’احاطہ کرنا‘یا ’سنبھالنا‘۔
کنافة کی مقبولیت کا سبب اس کا شیریں ذائقہ اور خستہ بناوٹ ہے، جس نے اسے عرب دنیا کی نمایاں ترین مٹھائیوں میں شامل کر دیا۔
کنافہ کا پہلا ظہور
کئی تاریخی روایات کے مطابق کنافة کا پہلا ذکر دورِ اموی میں ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے خاص طور پر پہلے اموی خلیفہ معاویہ بن ابی سفیان کے لیے دمشق میں تیار کیا گیا۔
روایت کے مطابق انہیں رمضان میں شدید بھوک لگتی تھی، جس پر انہوں نے اپنے معالج سے مشورہ کیا۔ طبیب نے انہیں سحری میں کنافة کھانے کا مشورہ دیا تاکہ دن بھر بھوک کم محسوس ہو۔
اسی نسبت سے اسے بعض اوقات ’کنافة معاویہ‘ بھی کہا گیا اور اسے ’ملوک و امراء کے دسترخوان کی زینت‘ قرار دیا گیا۔
ڈاکٹر الشیماء الصعیدی، جو مصر کے مرکزِ اطلس برائے عوامی روایات سے وابستہ ہیں، کے مطابق شام کے حلوائیوں نے کنافة اور قطائف ایجاد کیں اور انہیں معاویہ بن ابی سفیان کے لیے بطور خاص پیش کیا۔
ایک اور دلچسپ حکایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ شاہی باورچی خانے میں ایک باورچی نے مائع آٹا تیار کیا۔ جب مغرفہ (کفگیر یا بڑا چمچہ) سے آٹا چولہے پر گرا تو باریک دھاگوں کی شکل اختیار کر گیا۔ باورچی نے اسے گھی میں تل کر شہد ڈال کر خلیفہ کو پیش کیا، جو اسے بے حد پسند آیا۔
کنافة کی علمی دستاویز
مشہور مصری عالم جلال الدین السیوطی (1445 – 1505ء) نے ’منهل اللطائف في الكنافة والقطايف‘ کے عنوان سے کتاب تحریر کی ہے۔ اس تصنیف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں کنافة اور قطائف کو خاص شہرت حاصل تھی اور یہ رمضان سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔
السیوطی نے ابن فضل اللہ العمری (مصنف ’مسالک الابصار‘) کا حوالہ دیتے ہوئے نقل کیا کہ معاویہ رمضان میں شدید بھوک محسوس کرتے تھے، چنانچہ طبیب محمد بن آثال نے ان کے لیے کنافة تیار کی اور وہ اسے سحری میں کھاتے تھے۔
اس روایت نے کنافة کو اموی عہد سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کیا کنافة مصری ہے؟
دوسری طرف کچھ روایات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کنافة کا پہلا ظہور مصر میں ہوا، خاص طور پر فاطمی دور میں۔ روایت ہے کہ جب خلیفہ المعز لدین اللہ الفاطمی رمضان میں قاہرہ میں داخل ہوئے تو اہلِ قاہرہ نے افطار کے بعد ان کا استقبال کیا اور تحائف پیش کیے، جن میں کنافة بھی شامل تھی۔
کہا جاتا ہے کہ بعد ازاں تاجر اسے شام لے گئے اور یوں یہ مختلف خطوں میں رمضان کی روایت بنتی چلی گئی، تاہم بعض مؤرخین نے اس روایت پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
کچھ دیگر آراء کے مطابق کنافة کی اصل ترکی یا چرکسی زبان سے جڑی ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چرکسی زبان میں اسے ’تشنافة‘ کہا جاتا تھا، جہاں ’تشنا‘ کا مطلب بلبل اور ‘فه‘ کا مطلب رنگ ہے، یعنی ‘بلبل کا رنگ‘۔
منیل پیلس میوزیم رپورٹ
2024 میں قاہرہ کے منیل پیلس میوزیم نے کنافة پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک قدیم مشرقی مٹھائی ہے، جسے ابتدا میں بادشاہوں اور امراء کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق بھی کنافة کا ظہور اموی دور میں ہوا اور ممکن ہے کہ اس سے بھی پہلے اس کی ابتدائی شکل موجود ہو۔ اس میں مختلف روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ شام کے حلوائیوں نے اسے اموی خلفاء کے لیے تیار کیا۔
رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ مصر میں ایوبی، مملوکی، ترکی، جدید اور معاصر ادوار میں کنافة رمضان کی روایت کا حصہ بنی رہی، یہاں تک کہ یہ عوامی سطح پر ہر طبقے کی مٹھائی بن گئی۔
مختلف ممالک میں کنافة کے انداز
کنافة کی تیاری کا طریقہ ملک بہ ملک بدلتا ہے۔
• مصر میں مختلف شکلوں میں تیار کیا جاتا ہے، جیسے بلدی اور بورمة (اسے کریم یا قشطة سے بھرا جاتا ہے)۔
• بلادِ شام میں اسے عموماً قشطة سے بھرا جاتا ہے، اور یہاں مبرومة، بللوریة، عثمنلية اور مفروكة جیسی اقسام مشہور ہیں۔
• مکہ مکرمہ میں بغیر نمک پنیر سے بھری کنافة پسند کی جاتی ہے۔
• نابلس نے پنیر والی کنافة میں خاص مہارت حاصل کی، یہاں تک کہ ’کنافة نابلسية‘ایک عالمی شناخت بن گئی۔
یوں شام کو مختلف اقسام کی کنافة بنانے میں سب سے نمایاں مقام حاصل ہے۔
اختلاف کے باوجود اتفاق
اگرچہ کنافة کی اصل کے بارے میں روایات متضاد ہیں، کوئی اسے اُموی دور سے جوڑتا ہے، کوئی فاطمی مصر سے اور کوئی ترک یا چرکسی اثرات کا ذکر کرتا ہے، لیکن ایک بات پر سب متفق ہیں کہ کنافة رمضان کی محبوب ترین اور لذیذ ترین مٹھائیوں میں سے ایک ہے۔
عرب دنیا خصوصاً مصر میں کوئی بھی رمضان دسترخوان اس کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا۔