خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) اور انڈیا کے مابین اسٹریٹیجک شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت فریقین نے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
نئی دہلی میں منگل کے روز منعقدہ تقریب میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی اور انڈیا کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے اس حوالے سے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔
یہ پیش رفت دونوں خطوں کے درمیان اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے اور تجارتی روابط کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک سنگ میل قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے اس موقع پر واضح کیا کہ 5 فروری 2026 کو طے پانے والی شرائط و ضوابط مذاکرات کے لیے واضح اور جامع فریم ورک ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں جانب سے اشیا کی تجارت، کسٹم کے طریقہ کار، خدمات کی تجارت اور ڈیجیٹل اکانومی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ صحت اور متعلقہ شعبے کے لیے اقدامات، دانشورانہ ملکیت کے حقوق (Intellectual Property Rights) اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے موضوعات شامل ہیں، جو اس معاہدے کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جی سی سی سیکرٹریٹ رواں سال کی دوسری ششماہی میں ریاض میں مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ان مذاکرات کا بنیادی ہدف ایک ایسا معاہدہ کرنا ہے جو تجارتی رکاوٹوں اور کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ کرے اور دونوں جانب معیاری سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ ہو۔
مشترکہ بیان پر دستخط کے بعد دونوں اطراف کے وفود کے درمیان ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں انڈیا اور خلیجی ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں شراکت داری کے مزید مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ ایک جامع اقتصادی انضمام کے ذریعے تجارت کی روانی کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے نہ صرف خلیجی ریاستوں بلکہ انڈیا کے معاشی مفادات کو بھی تحفظ ملے گا۔