اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

نفس امارہ کی لگام، روزہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

نثار احمد حصیر القاسمی

حیدرآباد دکن

رمضان المبارک اہلِ علم و تقویٰ کے نزدیک ہمیشہ خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ 

سلف صالحین نے اسے عبادت و اطاعت کا میدان قرار دیا۔ 

حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کو بندوں کے لیے دوڑ کا میدان بنایا ہے، جو آگے نکل گیا وہ کامیاب اور جو پیچھے رہ گیا وہ محروم رہا۔

مزید پڑھیں

حضرت جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ آنکھ، کان اور زبان کو بھی گناہوں سے روکنا ہے۔ 

حضرت حسن بصریؒ کے مطابق روزہ اطاعت میں سبقت کا ذریعہ ہے۔ امام شافعیؒ چاہتے تھے کہ رمضان میں لوگ عبادت کے ساتھ دوسروں کی حاجت روائی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

امام غزالیؒ نے روزے کو دل کی صفائی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ 

بھوک انسان میں نرمی، ہمدردی اور بصیرت پیدا کرتی ہے، جبکہ شکم سیری سستی اور غفلت کا سبب بنتی ہے۔ 

حافظ ابن قیمؒ کے مطابق روزہ خواہشات کو قابو میں رکھ کر نفسِ امارہ پر لگام لگاتا اور انسان کو تقویٰ کی راہ پر ڈالتا ہے۔ 

اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ رمضان میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں اور روزہ شہوانی جذبات کو توڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

امام ابن رجب حنبلیؒ لکھتے ہیں کہ رمضان کے روزوں کا اجر دیگر ایام سے بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ 

حضرت احنف بن قیسؒ نے بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود فرمایا کہ وہ روزے کو آخرت کے طویل سفر کا زادِ راہ سمجھتے ہیں۔

روزے کی ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ انسان بھوک کے ذریعے دوسروں کے درد کو محسوس کرے۔ یہی احساسِ رحمت معاشرے میں تعاون اور ہمدردی کو فروغ دیتا ہے۔

tormented upset crying young man feels pain in bac 2026 01 09 00 16 47 utc

جہاں تک بیماروں کا تعلق ہے، اسلام نے ان کے لیے رخصت رکھی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کو جس طرح عزیمت پسند ہے، اسی طرح رخصت پر عمل بھی محبوب ہے۔ 

اگر کوئی شخص عذر یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے مگر نیت صادق ہو تو اسے اجر ملتا ہے۔ 

حدیث کے مطابق جب بندہ بیمار یا مسافر ہوتا ہے تو اسے وہی اجر ملتا ہے جو صحت اور اقامت کی حالت میں عمل کرنے پر ملتا تھا۔ (بخاری)

مومن کی زندگی صبر اور شکر کے درمیان گردش کرتی ہے۔ 

خوشحالی میں شکر اور مصیبت میں صبر دونوں خیر ہیں۔ 

بیماری بھی گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہے۔ 

قرآن کہتا ہے کہ اللہ دین میں تنگی نہیں چاہتا۔ (الحج 78)

لہٰذا رمضان میں ہمیں عبادت کے ساتھ مریضوں کی عیادت اور خدمت کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ حدیث میں آیا ہے کہ مریض کی عیادت کرنے والا رحمت میں داخل ہوتا ہے اور اس کے لیے جنت میں مقام تیار کیا جاتا ہے۔ 

اس بابرکت مہینے کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔