ڈاکٹر بشریٰ تسنیم
شارجہ
مشکوۃ المصابیح، کتاب الصوم میں بخاری شریف کے حوالے سے سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اگر کسی شخص نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔
اس حدیث میں دو باتوں کی مذمت کی گئی ہے۔
جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا۔
مزید پڑھیں
ہم سب ہی جھوٹ جیس برائی سے واقف ہیں۔
پوری انسانیت اس بات پر متفق ہے کہ جھوٹ بڑا عیب ہے۔ساری دنیا اس برائی کے خلاف ہے۔
سب یہ چاہتے ہیں کہ اُن سے جھوٹ نہ بولا جائے۔
سب کہتے ہیں کہ ہمیں جھوٹے لوگوں سے نفرت ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہر شخص نے جھوٹ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔
جھوٹ پر عمل ایک الگ عیب ہے۔
غلط بیانی جھوٹ ہے تو غلط کاری جھوٹ پر عمل ہے۔
’حق‘ سچ ہے اور ’باطل‘ جھوٹ ہے۔
اللہ ’الحق‘ ہے، اس کی اطاعت حق و سچ ہے۔
اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سچائی ہے، سچ پرعمل ہے۔
انسان اپنے سارے اعضاء سے سچ یا جھوٹ پر عمل کرتا ہے۔
اگر آنکھوں،کانوں اور دل کو الحق کا بندہ بنایا تویہ سچ پر عمل ہے۔
اگر اپنے جسم کو الحق کی نافرمانی میں لگایا تو یہ باطل کی اطاعت ہے، یعنی جھوٹ پر عمل ہے، جھوٹی زندگی ہے۔
روزے میں اگر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کی اورصرف پیٹ کو کھانے پینے سے باز رکھا تو اللہ تعالیٰ کو ایسا روزہ مطلوب ہے نہ قبول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے فرمایا کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں خود ہوں۔
جو ذات ’الحق‘ ہو وہ حق ہی قبول کرے گی، باطل نہیں۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ایک حق بات ہے، ان حقوق سے روگردانی گناہ ہے۔
ہر گناہ جھوٹی زندگی گزارنا ہے۔
سچی زندگی وہی ہے جو انجامِ کار کامیاب ہو۔
جس نے زندگی عطا کی وہی جانتا ہے کہ زندگی کا سب سے بڑاسچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔
سب سے بڑا سچ ’لا الٰہ الا اللہ‘ ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارنا سب سے بڑی سچائی ہے اور اس کلمے سے روگردانی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور ایسی زندگی جھوٹ پرعمل ہے۔
مشرک، منافق، کافر، خائن، فاسق کی زندگی جھوٹ پہ عمل ہے۔
غرض اللہ تعالیٰ کی ہر نافرمانی جھوٹ پہ عمل ہے۔
روزہ جیسی عظیم عبادت اگر جھوٹ اور جھوٹے عمل سے منسلک ہو تو وہ رب اِس جھوٹ کے پلندے کو کیسے قبول کرے گا۔
اللہ تعالیٰ پاک ہے، الحق ہے۔
وہ پاکیزہ اعمال اور سچے عمل کو پسند کرتا ہے۔
شہد کی بوتل میں اگر زہر بھرا ہو تو بوتل پر شہد لکھنے سے وہ شہد نہیں بن سکتا۔
روزے دار کا باطن بھی روزے سے ہے تو اس کی جزائے خیر اللہ رب العزت کی ذات ہے۔