کارکنوں کی تنخواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے پروگرام نے 2025ء کے اختتام تک ایک کروڑ سے زائد کارکنوں کی تنخواہوں کو باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دے دی، جبکہ سال بھر میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ تنخواہی فائلیں پراسیس کی گئیں۔
مزید پڑھیں
2013ء میں شروع ہونے والا یہ پروگرام لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے اور نجی شعبے میں شفافیت و انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں اس پروگرام کا دائرہ کار نمایاں طور پر بڑھا اور ’مدد‘ پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ اداروں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جو نجی شعبے کے تقریباً 94 فیصد اداروں کی
نمائندگی کرتی ہے۔ اسی عرصے میں پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کی شرح 85 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
یہ نظام نجی اداروں میں کام کرنے والے تمام ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کو بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ریکارڈ کرتا ہے۔ ’مدد‘ پلیٹ فارم کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ اجرت طے شدہ وقت اور معاہدے میں درج رقم کے مطابق ادا ہو۔
جامع گورننس ماڈل پر مبنی اس پروگرام میں براہِ راست تکنیکی ربط کے ذریعے فوری نگرانی ممکن ہے۔
اس سے اداروں کی جانب سے مقررہ تاریخ پر تنخواہوں کی ادائیگی کی تصدیق کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں لیبر تنازعات میں کمی آتی ہے اور نجی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے درست ڈیٹا دستیاب ہوتا ہے۔
یہ نظام مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک مضبوط قانونی اور تکنیکی حوالہ فراہم کرتا ہے، جس سے سعودی لیبر مارکیٹ کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے اور اسے منظم اور شفاف کاروباری ماحول کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے اس پروگرام کے ذریعے کارکنوں کے مالی حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ جس کے تحت ’مدد‘ پلیٹ فارم پر درج اجرتی معلومات کو باضابطہ نفاذی دستاویز کا درجہ دیا گیا ہے، جس سے اعتماد اور عدل کے اصولوں کو تقویت ملتی ہے۔
وزارت کی جانب سے نجی شعبے کو پروگرام کی شرائط پر خودکار عملدرآمد کے لیے ترغیب بھی دی جا رہی ہیے ، جبکہ نگرانی ٹیمیں کارکردگی پر بھی مسلسل نظر رکھتی ہیں اور تنخواہوں سے متعلق درپیش مسائل اور شکایات کو بروقت حل کرتی ہیں۔