اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

ان گناہوں کی بخشش جو ابھی سرزد نہیں ہوئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

نبی اکرمﷺ  لوگوں کو رمضان کی راتوں میں قیام کرنے، نمازِ تراویح پڑھنے کی ترغیب دلایا کرتے تھے لیکن آپﷺ انہیں عزیمت (وجوباً پابندی) کا حکم نہیں دیتے تھے۔

آپﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اسی کی رضا و خوشنودی کے حصول کی خاطر رمضان کی راتوں کو قیام کیا، اسکے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے گئے۔

مزید پڑھیں

حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے کہا ہے کہ سنن نسائی میں قتیبہ نے سفیان کے طریق سے اس حدیث میں ’مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ‘ کے بعد  ’وَمَا تَأَخَّرَ‘ کا اضافہ بھی روایت کیا ہے کہ سابقہ اور لاحقہ تمام گناہ معاف کر دیئے گئے۔  

ان کا کہنا ہے کہ یہ اضافی الفاظ مسند احمد کی ایک روایت میں بھی مروی ہیں۔ 

حافظ موصوف لکھتے ہیں کہ اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت کے سلسلہ میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں جنہیں میں نے ایک مستقل کتاب میں جمع کر دیا ہے۔

یہاں ایک اِشکال پیش آتا ہے کہ اِس حدیث میں جو اضافی الفاظ ’بعد والے گناہ بھی بخش دیئے جاتے ہیں‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ 

کیونکہ مغفرت تو تب ہوتی ہے جب پہلے گناہ سرزد ہوا ہو۔

جب ابھی گناہ سرزد ہی نہیں ہوا تو اس کی پیشگی مغفرت کیسے ہوگی؟

muslim man and kneeling in prayer at house for sp 2026 01 09 10 46 57 utc

اس اِشکال کو حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ذکر کر کے مختلف جوابات سے اسکا ازالہ کیا ہے چنانچہ موصوف لکھتے ہیں:
یہ کنایہ ہے اس بات سے کہ وہ کبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رہیں گے۔ 

آئندہ ان سے کوئی کبیرہ گناہ سرزد ہی نہیں ہوگا۔ 

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُن سے جو بھی گناہ سرزد ہوں گے وہ بخش دیئے جائیں گے۔ 

ماوردی اور بعض دیگر اہل علم نے یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے سابقہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

آئندہ گناہوں کی بخشش سے مراد یہ ہے کہ ان سے جو بھی فعل سرزد ہوگا، اس پر ان کا کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ 

اہلِ بدر صحابہؓ کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا ہے ’اللہ نے اہلِ بدر (کے خلوص و ایثار )کو دیکھ کر کہا کہ آج کے بعد  جو عمل چاہے کرو، تمہارے لئے جنت واجب کردی گئی ہے یا فرمایا تمہاری بخشش کر دی گئی ہے۔  

muslim prayer doing sajdah on rug 2026 01 08 22 18 54 utc

اس حدیث میں یہی مراد ہے کہ تمہارے آئندہ کے افعال پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا ’جو عمل چاہے کرلو‘ یہ ان کی عزت و تکریم کے لئے کہا گیا ہے۔

یہ عظمت انہیں ان کے اُس عمل کے عوض ملی جو انہوں نے اولین معرکہ حق و باطل میں اعلائے کلمہ حق کے لئے سر انجام دیا جسکے نتیجہ میں ہی ان کے سابقہ تمام گناہ بھی معاف کردیئے گئے اور وہ اس کے اہل ہوگئے کہ اگر ان سے آئندہ کوئی گناہ سرزد ہوا تو اللہ انہیں وہ بھی بخش دے گا۔