اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

سعودیہ نے کویت سے متصل آبی علاقوں پر عراقی دعوے مسترد کردیے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

وزارتِ خارجہ نے عراق کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی سمندری حدوں اور نقشوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کی طرف سے پیش کی گئی کوآرڈینیٹس اور نقشوں میں کویت سے متصل منقسم آبی علاقے کے بڑے حصوں کو شامل کیا گیا ہے، جو سعودی۔کویتی منقسم زون سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ اقدام ناقابلِ قبول ہے۔

وزارت نے واضح کیا کہ مذکورہ منقسم آبی علاقے میں قدرتی وسائل کی 

ملکیت سعودی عرب اور کویت کے درمیان طے شدہ اور نافذ العمل معاہدوں کے تحت مشترکہ ہے۔

بیان کے مطابق یہ معاہدے 1982 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے سمندری قوانین کے اصولوں پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے حقوق کو واضح کرتے ہیں۔

saudi kuwait iraq scaled
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مملکت نے نشاندہی کی ہے کہ عراق کی جانب سے پیش کردہ دعوے کویت کی سمندری حدود اور آبی بلندیوں، جن میں فشت القید اور فشت العيج شامل ہیں، کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

سعودی عرب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ منقسم آبی علاقے میں کسی تیسرے فریق کے حقوق سے متعلق کسی بھی دعوے کو قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ علاقہ سعودی عرب اور کویت کے درمیان متعین حدود کے اندر آتا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے عراق پر زور دیا کہ وہ کویت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور دوطرفہ و بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرے، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 833 (1993) کی، جس کے تحت کویت اور عراق کے درمیان زمینی اور سمندری سرحدوں کا تعین کیا گیا تھا۔

سعودی عرب نے اس معاملے میں تحمل، دانشمندی اور مکالمے کو ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات کو بین الاقوامی قانون اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کے مطابق سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔