اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

شہزادہ محمد بن سلمان ’استثنائی‘ قائد

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
’استثنائی قائد‘ ایک استثنائی لمحے میں ظاہر ہوتا ہے
Picture of یوسف الدینی

یوسف الدینی

سعودی کالم نگار۔ الشرق الاوسط

ایسے عالم میں جہاں ادھورے حل غالب ہوں، سعودی عرب ایک ایسی قائدانہ قوت کے طور پر ابھرا ہے جس نے دہشت گردی اور انتہا پسند فکر کا سامنا شدت سے کیا ہے۔
خاص طور پر شہزادہ محمد بن سلمان وہ رہنما ثابت ہوئے جنہوں نے ابتدا ہی سے اس طرزِ عمل کو حتمی انداز میں طے کر دیا اور اسلامی دنیا میں بے مثال زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انتہا پسندی سے مکمل قطع تعلق ہے، انتہا پسند فکر کوفوری طور پرتباہ کردیں گے، ان کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں‘۔
یہ الفاظ محض سیاسی خطاب نہیں بلکہ ایسے تاسیسی خود مختار فیصلے کا اعلان ہے جس نے معرکے کی نوعیت اور اس کی سرحدوں کو از سرِ نو متعین کر دیا۔

مزید پڑھیں

ولی عہد نے نہایت وضاحت سے کہا تھا کہ ’ہم اپنی زندگی کے 30 سال کسی بھی انتہا پسند فکر سے نمٹنے میں ضائع نہیں کریں گے، ہم انہیں آج اور اسی وقت اسےتباہ کردیں گے‘۔
قیام مملکت سے لے کر ماضی قریب تک سعودی عرب نے انتہا پسندی کا سختی سے مقابلہ کیا ہے۔
ملک کو ’اخوان من طاع اللہ‘ کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، 1979 میں

 جہیمان کا سانحہ بھی پیش آیا جس نے مسجد الحرام کی حرمت کو پامال کیا، القاعدہ اور پھر داعش کا بھی مقابلہ کیا ہے۔
2017 میں شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد یہ مقابلہ خطرے کے انتظام سے اس کے جڑ سے خاتمے تک منتقل ہو گیا، ردِ عمل سے پیش قدمی تک اور محض اداروں کے نظم سے ان کی از سرِ نو تشکیل اور ان میں نئی روح پھونکنے تک، بالخصوص سکیورٹی اور ثقافتی شعبوں میں، سکیورٹی کوششوں کو ایک ایسے مختلف درجے تک لے جایا گیا جو جرم کے بعد سزا تک محدود نہیں بلکہ ابتدائی فہم، گہرے تجزیے اور سماجی، فکری و معاشی سیاق و سباق کے ساتھ ربط پیدا کر کے، خطرے کو حقیقت بننے سے پہلے ہی نمٹ لیتا ہے۔

یہاں ولی عہد کی شخصیت کو ماکس ویبر کے بیان کردہ ’استثنائی قائد‘ کے تصور کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے، جو ایک استثنائی لمحے میں ظاہر ہوتا ہے، محض موجودہ حقیقت کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ اسے نئی بنیادوں پر ازسرِنو تعمیر کرنے کے لیے۔

مسئلہ صرف ریاستی آلات کو بہتر بنانے کا نہیں تھا بلکہ اس کے کردار کی نئی تعریف کا تھا اور اس حقیقت کا ادراک تھا کہ دہشت

 گردی کا سب سے بڑا جرم محض قتل نہیں بلکہ اسلام کی مسخ شدہ تصویر پیش کرنا ہے۔

یہ وژن گہری سماجی و ثقافتی اصلاحات کے ساتھ جڑا ہوا تھا جنہوں نے اعتدال اور توازن کو بحال کیا، انتہا پسندی کے لیے سازگار ماحول کو خشک کیا، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کیا، معلومات کے تبادلے اور مالی ذرائع کی نگرانی کو وسعت دی اور دہشت گردی کے خلاف اسلامی و عالمی اتحادوں کی قیادت کی۔

 اس طرح سعودی عرب ایک ہدف بنے ہوئے ملک سے خطے اور دنیا کے امن میں ایک مرکزی کردار ادا کرنے والا بن گیا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنی تاریخ کے ہر مرحلے میں وضاحت اور مقابلے کا راستہ اختیار کیا مگر محمد بن سلمان کی قیادت میں یہ راستہ دوٹوک منزل تک جا پہنچا اور انتہا پسند فکر و دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایک وجودی فیصلے میں بدل دیاکہ یا ہم ہوں گے، یا نہیں ہوں گے۔