اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

کویت میں 18 سال کی عمر پر لازمی فوجی سروس کا قانون منظور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کویت نے قومی خدمت کے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ہر شہری کو 18 برس کی عمر مکمل ہونے پر لازمی فوجی سروس انجام دینے کا پابند بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ اقدام قومی دفاعی نظام کو جدید بنانے، مسلح افواج کی افرادی تیاری کو مضبوط کرنے اور 2015 میں جاری قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

سرکاری گزٹ میں شائع وضاحتی نوٹ کے مطابق قانون کے عملی نفاذ کے دوران بعض خلا سامنے آئے تھے، جنہیں دور کرنے کے لیے متعدد دفعات میں ترمیم، اضافہ یا منسوخی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کی ضروریات اور قانون سازی میں عدل و توازن کو یقینی بنانا ہے۔

نئے ضوابط کے تحت سرکاری یا نجی شعبے میں ملازمت حاصل کرنے، یا کسی آزاد پیشے کے لیے لائسنس لینے کے لیے قومی خدمت کی ادائیگی، معافی یا التوا کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہوگا۔ اسی کے ساتھ قومی خدمت مکمل کرنے والوں کو ملازمت میں ترجیح دی جائے گی۔

قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر ملازمت دینے یا نہ دینے سے نہیں روکا جا سکتا کہ اس نے فوجی خدمت ادا نہیں کی، وہ خدمت انجام دے رہا ہے یا اسے طلب کیا گیا ہے، بشرطیکہ وہ قومی فوجی خدمت اتھارٹی کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ پیش کرے جس میں تقرری میں کوئی رکاوٹ نہ ہونے کی تصدیق ہو۔

ترمیم کے مطابق تربیتی مدت مکمل کرنے کے بعد بھرتی ہونے والوں کو فوج کے مختلف یونٹس میں چیف آف جنرل اسٹاف یا ان کے نائب کے جاری کردہ منصوبے اور احکامات کے تحت تعینات کیا جائے گا۔

عدالتی فیصلے کے تحت قید کی مدت یا منشیات بحالی مراکز میں گزارا گیا وقت فعال فوجی خدمت میں شمار نہیں ہوگا۔

قانون میں بعض طبقات کو لازمی خدمت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جن میں فوجی کالجوں، اداروں اور عسکری اسکولوں کے طلبہ، فوج، پولیس، نیشنل گارڈ یا جنرل فائر فورس میں فوجی عہدے پر تعینات یا رضاکار افراد شامل ہیں۔

اسی طرح کویت پیٹرولیم کارپوریشن اور اس سے وابستہ کمپنیوں کے فائر فائٹرز کو بھی کم از کم پانچ سال کی ملازمت کی شرط پر استثنا دیا گیا ہے۔

مزید برآں یکم جنوری 2012 سے قبل پیدا ہونے والے افراد کو بھی اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جبکہ کابینہ کو عوامی مفاد کے پیش نظر دیگر طبقات کو استثنا دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔