نوبل انعام یافتہ سعودی کیمیا دان عمر یاغی نے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو خشک ہوا سے پانی کشید کر سکتی ہے۔ اس کارنامے کو موسمیاتی آفات اور قحط زدہ علاقوں میں پانی کے بحران کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے عمر یاغی نے بتایا کہ یہ ایجاد خصوصاً جزیرہ نما ممالک اور ایسے خطوں کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جہاں قدرتی آفات کے باعث پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ’ریٹیکیولر کیمسٹری‘ نامی سائنسی شعبے پر مبنی ہے، جس میں مخصوص سالماتی ساخت رکھنے والے مواد تیار کیے جاتے ہیں جو فضا میں موجود نمی کو جذب کر کے قابلِ استعمال پانی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یہ نظام صحرائی اور انتہائی خشک ماحول میں بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے۔
عمر یاغی کی قائم کردہ کمپنی Atoco کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا یونٹس 20 فٹ طویل شپنگ کنٹینر کے حجم کا ہوتا ہیں اور یہ ماحول سے حاصل ہونے والی نہایت کم حرارتی توانائی پر مکمل طور پر کام کرتی ہیں۔
اس کا ہر یونٹ روزانہ ایک ہزار لیٹر تک صاف پانی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کسی مرکزی بجلی یا پانی کے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس خصوصیت کے باعث یہ نظام ان علاقوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں سمندری طوفانوں یا خشک سالی کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہو۔
یاغی، جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں کیمسٹری کے پروفیسر ہیں اور 2025 میں جدید مسام دار مواد کے ڈیزائن پر کام کے اعتراف میں کیمسٹری کا نوبل انعام حاصل کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ کیریبین خطے میں آنے والے سمندری طوفان جیسے بیرل اور میلیسا نے روایتی آبی نظام کی کمزوری کو واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جسے ’ آبی دیوالیہ پن کا دور‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں لوگ مختلف طرح سے پانی کے عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 2 ارب سے زائد افراد محفوظ پینے کے پانی تک رسائی سے محروم ہیں۔
گریناڈا میں، جو 2024 میں طوفان بیرل سے شدید متاثر ہوا تھا، مقامی حکام اس ٹیکنالوجی کو ایک امید افزا حل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر کاریاکو اور پیٹیٹ مارٹینیک جیسے جزائر میں جہاں تباہی کے اثرات اور ساحلی کٹاؤ کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ روایتی نیٹ ورکس سے آزاد ہو کر کام کرنے کی صلاحیت اس ٹیکنالوجی کو اسٹریٹیجک برتری دیتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پانی کی درآمد مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور مرکزی نظام آفات کے دوران معطل ہو جاتے ہیں۔
یاغی کے مطابق یہ حل سمندری پانی کی ڈی سیلینیشن کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ہے، کیونکہ ڈی سیلینیشن کے عمل میں مرتکز نمکیاتی محلول کی دوبارہ سمندر میں واپسی سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی حل اب محض تکنیکی سہولت نہیں بلکہ انسانی بقا کی ضرورت بن چکے ہیں، اس لیے سائنسی تحقیق کی سرپرستی، ماہرین کی آزادی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں۔
عمر یاغی نے اپنی بچپن کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اُردن میں پناہ گزین کمیونٹی میں پرورش کے دوران ان کے محلے میں ہفتے یا دو ہفتے بعد پانی آتا تھا، اور یہی تجربہ ان کی سائنسی جدوجہد کا بنیادی محرک بنا۔
موسمیاتی تبدیلی کے تیز رفتار اثرات کے تناظر میں یہ ایجاد ایسے ماحول دوست حل کی مثال بن کر سامنے آئی ہے جو مستقبل میں کمزور اور متاثرہ علاقوں میں آبی سلامتی کے نقشے کو بدل سکتی ہے۔