اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

سعودی عرب کی اسرائیل میں امریکی سفیر کے متنازع بیان کی شدید مذمت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

وزارتِ خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ متنازع بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کی مکمل بالادستی کو قابلِ قبول قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں

مملکت نے اسرائیلی سفیر کے غیر ذمے دارانہ بیان کو بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سفارتی روایات کی صریح خلاف ورزی کے مترادف  قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی امریکی عہدیدار کی جانب سے اس نوعیت کا مؤقف اختیار کرنا ایک خطرناک مثال ہے اور یہ خطے کے ممالک اور امریکا کے درمیان تعلقات کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔

سعودی عرب نے خبردار کیا کہ اس طرح کے انتہا پسندانہ خیالات سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں اور خطے کے ممالک و عوام کو مشتعل کر کے عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق عالمی نظام اس بنیاد پر قائم ہے کہ ممالک کی جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کیا جائے ۔ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ماضی کی خونریز جنگوں کے بعد انہی اصولوں پر عالمی اتفاق رائے قائم ہوا تھا۔

ریاض نے امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بیان کے حوالے سے اپنا باضابطہ مؤقف واضح کرے، کیونکہ یہ مؤقف دنیا بھر کے امن پسند ممالک کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکت ہر اس اقدام کی مخالفت کرتی ہے جو ریاستوں کی خودمختاری، سرحدوں اور علاقائی سالمیت کو متاثر کرے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ منصفانہ اور جامع امن کے حصول کا واحد راستہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔