جنرل اتھارٹی برائے امورِ مسجد الحرام و مسجد النبوی نے رمضان کے دوران روزہ داروں کے افطار دسترخوانوں کے انتظام کا ایک جامع آپریشنل گورننس ماڈل کے تحت آغاز کیا ہے، جس کا مقصد خدمت کا معیار بلند کرنا، ذمہ داریوں کو واضح کرنا اور عملدرآمد میں نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ نیا نظام احسان اور نسک پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ بادل فاؤنڈیشن کے اشتراک سے نافذ کیا گیا ہے اور مسجد الحرام و مسجد النبوی دونوں میں یکساں آپریشنل اور غذائی معیارات کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے۔
اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو انجینئر غازی بن ظافر الشهرانی نے اس سلسلے میں بتایا کہ رمضان کے دوران افطار پروگرام کا انتظام اب انفرادی کاوشوں یا غیر منظم اقدامات تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک واضح اور
مربوط نظام کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔
اس ماڈل میں عطیات کی وصولی، عملدرآمد کرنے والی کمپنیوں کی نگرانی اور حرمین کے اندر فیلڈ کنٹرول ایک ہی ڈھانچے کے تحت مربوط کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سیزن میں فیلڈ سطح پر زیادہ باریک بینی کے ساتھ کام کیا گیا ہے، جس میں سیکیورٹی، ٹریفک اور ہجوم کے انتظام سے متعلق اداروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی شامل ہے۔
اسی طرح خوراک کی گاڑیوں کی آمد و رفت، پارکنگ مقامات اور کچرے کے نظم و نسق کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ افطار کی تقسیم اور بعد ازاں صفائی کے عمل میں کسی قسم کی بھیڑ یا رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
علاوہ ازیں مصلیٰ کے مختلف حصوں کو الگ الگ آپریشنل زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر زون کے لیے ایک منظور شدہ کمپنی مقرر کی گئی ہے جبکہ متبادل کمپنیوں کا بھی تعین کیا گیا ہے۔
متعلقہ ادارہ افطار دسترخوان بچھانے اور بعد از افطار انہیں ہٹانے کا ذمہ دار ہے، ساتھ ہی بچے ہوئے کھانے اور فضلے کی درجہ بندی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ صفائی اور روانی برقرار رہے۔
انجینئر الشهرانی کے مطابق گزشتہ سیزن میں افطار تجربے کا جائزہ 10 ہزار روزہ داروں کے نمونے پر لیا گیا تھا، جس میں اطمینان کی شرح 85 فیصد رہی۔
اس جائزے سے 69 ترقیاتی تجاویز سامنے آئیں جنہیں 6 عملی اقدامات میں تبدیل کیا گیا، جبکہ 62 چیلنجز کی نشاندہی کر کے ان کے واضح آپریشنل حل بھی نافذ کیے گئے۔
اس سال غذائی معیار میں بھی بہتری کی گئی ہے اور افطار کی اشیا کو سائنسی بنیادوں پر ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔ خوراک میں تقریباً 40 فیصد کاربوہائیڈریٹس، 25 فیصد پروٹین، 20 فیصد خشک میوہ جات اور 15 فیصد صحت بخش چکنائیاں شامل کی گئی ہیں، ساتھ ہی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
روزہ داروں کی مختلف غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیا کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔
مالیاتی عمل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تمام ادائیگیاں احسان پلیٹ فارم کے ذریعے کی جاتی ہیں جبکہ نسک پلیٹ فارم عملدرآمد کرنے والی کمپنیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس نظام سے عطیہ دینے سے لے کر عملی نفاذ تک شفافیت اور نظم کو یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جامع نظام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد النبوی دونوں میں ایک ہی آپریشنل شناخت اور ماڈل نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت منصوبہ بندی سے لے کر اختتام تک ہر مرحلہ منظم کیا گیا ہے، خاص طور پر رش کے اوقات میں خوراک کی ترسیل کو کم سے کم نقل و حرکت کے ساتھ یقینی بنایا گیا ہے اور ہر شریک کمپنی کی ذمہ داریوں کی حدود واضح کر دی گئی ہیں۔