اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

یومِ تاسیس: الدرعیہ سے پہلی سعودی ریاست کے قیام کو 299 سال مکمل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

سعودی عرب کل 22 فروری 2026 کو یومِ تاسیس کی 299ویں سالگرہ منائے گا، جو 22 فروری 1727 مطابق 1139ھ کے وسط میں اس تاریخی لمحے کی یاد دلاتا ہے جب امام محمد بن سعود رحمہ اللہ نے الدرعیہ میں پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی۔

مزید پڑھیں

یہ اقدام جزیرۂ عرب میں اتحاد، استحکام اور منظم حکمرانی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا، جس کی توسیع کا سفر موجودہ دور میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت تک جاری ہے۔

یہ قومی دن سعودی ریاست کی گہری تاریخی جڑوں اور تقریباً 3 

صدیوں پر محیط تسلسل کی علامت ہے۔ یہ موقع قومی شناخت پر فخر، قیادت سے وابستگی اور اس عزم کی یاد دہانی کراتا ہے جس نے ریاست کے قیام سے لے کر آج کے ترقی یافتہ دور تک مملکت کی سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنایا۔

وسطی جزیرۂ عرب میں استحکام کی بنیادیں صدیوں پہلے پڑ چکی تھیں۔ تقریباً 430 عیسوی میں بنو حنیفہ قبیلہ وادی حنیفہ میں آباد ہوا اور حجر الیمامہ کو اپنا مرکز بنایا، جس سے یہ علاقہ اپنے زمانے کے اہم شہری مراکز میں شمار ہونے لگا۔

foundation day 2
(فوٹو: واس)

وقت کے ساتھ خطے نے انتشار اور عدم استحکام کے ادوار بھی دیکھے، یہاں تک کہ 850ھ مطابق 1446 میں امیر مانع بن ربیعہ المریدی نے الدرعیہ کی بنیاد رکھی، جو تجارت اور آبادی کے اعتبار سے اہم مرکز بن گیا۔ شمال اور جنوب کے تجارتی راستوں پر اس کے محل وقوع نے اسے معاشی اہمیت دی۔

الدرعیہ وادی حنیفہ کے دونوں کناروں پر آباد ہوا۔ محلہ غصیبه شہر کی ابتدائی بنیاد بنا جبکہ فیضۃ الملیبید زرعی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔ پانی اور زرعی زمین کی دستیابی نے آبادی اور معیشت کو فروغ دیا اور ایک مضبوط سیاسی ڈھانچے کے قیام کی راہ ہموار کی۔

1139ھ مطابق 1727 میں امام محمد بن سعود نے پہلی سعودی ریاست قائم کی اور الدرعیہ کو دارالحکومت قرار دیا۔ انہوں نے الدرعیہ کے مختلف حصوں کو متحد کیا، داخلی نظم و نسق کو منظم کیا، حج اور تجارت کے راستوں کو محفوظ بنایا اور سمحان میں الطرفیہ جیسے نئے محلوں کی بنیاد رکھی۔ معاشی وسائل کو منظم کر کے سیاسی استحکام کو مضبوط کیا گیا۔

foundation day 3
(فوٹو: واس)

اس دور میں الدرعیہ علم، تجارت اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ علما، طلبہ اور تاجر یہاں آ کر آباد ہوئے۔ تصنیف و تدریس کی سرگرمیاں فروغ پائیں، خطاطی اور نسخ کی ایک باقاعدہ روایت سامنے آئی اور گھروں میں خواتین کے لیے تعلیمی حلقے قائم ہوئے۔ علمی مجالس نے ایک متحرک ثقافتی فضا کو جنم دیا۔

یہ شہر اپنی وسعت اور تعمیرات کے اعتبار سے بھی نمایاں رہا۔ الطرفیہ، سمحان، البجیری، السہل اور القصیرین جیسے محلے آباد ہوئے اور تقریباً 13 کلومیٹر طویل فصیل نے شہر کو گھیر لیا۔

قصر سلوى اور مسجد الطریف جیسی عمارات اپنی بلندی اور حسنِ تعمیر کے باعث نمایاں ہوئیں، جہاں قصر سلوى کی بلندی 22 سے 23 میٹر تک پہنچتی تھی اور اسے جزیرۂ عرب کی اہم مٹی کی تعمیرات میں شمار کیا جاتا ہے۔

تعمیرات میں مٹی، اینٹ، پتھر اور کھجور کے تنے استعمال کیے جاتے تھے۔ عمارات کو روایتی نقش و نگار جیسے حقاف، زرانیق اور شرف سے مزین کیا جاتا اور ہوا کے گزر کے لیے ’اللهوج‘نامی روشن دان بنائے جاتے۔

foundation day 4
(فوٹو: واس)

گھروں کی تعمیر میں خاندانی رازداری، روشنی اور ہوا کے رخ کو پیش نظر رکھا جاتا۔ اکثر مکانات 2 منزلہ ہوتے اور رہائش، ذخیرہ اندوزی اور مویشیوں کے لیے مخصوص حصے رکھتے۔ تعمیراتی کام ماہر پیشہ ور افراد کی نگرانی میں انجام پاتا جنہیں ’الاساتدہ‘ کہا جاتا تھا۔

ثقافتی اور سماجی زندگی میں بھی سرگرمیاں نمایاں تھی۔ محلہ البجیری میں ہی تقریباً 30 مدارس قائم تھے اور طلبہ کے لیے رہائش و خوراک کا بندوبست کیا جاتا۔

العرضہ، السامری اور الہجینی جیسے روایتی فنون پروان چڑھے اور ’نخوة العوجا‘قومی وابستگی کی علامت بنی۔ ’سبالة موضي‘ جیسے سماجی ادارے، جو امام عبدالعزیز بن محمد نے قائم کیے، تاجروں اور مسافروں کے لیے قیام و طعام کی سہولت فراہم کرتے تھے اور اس میں مسجد اور اصطبل بھی شامل تھے۔

تجارتی سرگرمیوں میں ’سوق الموسم‘ نمایاں تھا جو الطریف اور البجیری کے درمیان قائم تھا، جہاں کپڑے، تلواریں، زیورات اور اونٹوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی اور خواتین کے لیے علیحدہ بازار بھی مختص تھا۔

foundation day 5
(فوٹو: واس)

زراعت اور حرفت کے ساتھ تجارت نے معیشت کو متنوع بنایا۔ الدرعیہ کے قریب اونٹوں کے لیے مخصوص چراگاہ بھی قائم تھی جہاں بھٹکے ہوئے جانور جمع کیے جاتے اور اگر مالک نہ ملتا تو انہیں اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا۔

آج بھی الدرعیہ اپنے تاریخی آثار کو محفوظ رکھے ہوئے ہے، جن میں غصیبه، سمحان، البجیری اور وادی حنیفہ شامل ہیں، جبکہ الطریف کا تاریخی علاقہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہے اور دنیا کے بڑے مٹی کے تعمیراتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

ان تاریخی جڑوں کے اعتراف میں 24 جمادی الآخر 1443ھ مطابق 27 جنوری 2022 کو شاہی فرمان کے ذریعے 22 فروری کو ہر سال ’یومِ تاسیس‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا، تاکہ سعودی ریاست کے آغاز اور 3 صدیوں پر محیط اتحاد و ترقی کی داستان کو زندہ رکھا جا سکے۔