اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

روزہ رکھنے کے لئے نیت ضروری ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

محمد منیر قمر

جدہ

ہر شرعی کام کے لئے نیت ضروری ہے۔ 

ارشادِ نبویﷺہے:

اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔

روزہ بھی چونکہ ایک دینی فریضہ ہے لہٰذا اسکے لئے بھی نیت ضروری ہے۔

 ارشادِ نبویﷺ ہے:

جس شخص نے فجر سے پہلے پہلے روزے کی نیت اور پختہ ارادہ نہ کیا، اسکا کوئی روزہ نہیں۔ (ابوداؤد و ترمذی)

ابن ماجہ و دارقطنی اور ابن ابی شیبہ میں ہے:

اس شخص کا کوئی روزہ نہیں جو رات کو اسکا پختہ ارادہ و نیت نہ کرے۔

ان اور ایسی ہی بعض دیگر احادیث سے رات کے وقت یا قبل از فجر روزے کی نیت کرلینے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

نیت کیا ہے؟

نیت محض دل کا قصد و ارادہ ہے اور اسے ادا کرنا (تلفظ) ثابت نہیں خصوصاً نماز، روزہ اور غسل و  وضو وغیرہ کی نیت زبان سے کرنا نبی اکرمﷺ، خلفائے راشدینؓ اور عام صحابہؓ اور تابعین کرامؒ و ائمہ عظام ؒمیں سے کسی سے بھی منقول نہیں البتہ حج و قربانی اور عمرہ کی نیت کا تلفظ (زبان سے ادا کرنا) ثابت ہے۔

مزید پڑھیں

جن اعمال کے لئے زبانی نیت ثابت ہے، ان کی نیت تو زبان سے کی جاسکتی ہے جبکہ جنکی ثابت نہیں ان کی نیت بھی زبان سے کرنا  صحیح نہیں۔

اتباعِ سنت و اطاعتِ رسولﷺ یہی ہے کہ جہاں آپﷺ نے کچھ کیا، وہاں آپ بھی کریں اور جہاں آپﷺ نے کچھ نہیں کیا وہاں آپ بھی کچھ نہ کریں۔

بعض کتابوں میں عموماً روزہ رکھنے کی جونیت لکھی ہے کہ ’میں نے رمضان کے کل کے روزے کی نیت کی‘ یہ الفاظ نبی اکرمﷺ نے نہ خود کہے اور نہ تعلیم فرمائے۔

یہ نہ خلفاءؓ وصحابہؓ سے منقول ہیں اور نہ ہی تابعینؒ وائمہؒ  میں سے کسی سے ثابت ہیں۔ 

muslim family having iftar dinner drinking water t 2026 01 11 11 12 39 utc

کتب حدیث و فقہ کا سارا ذخیرہ چھان ماریں یہ الفاظ کہیں نہیں ملیں گے اور جن بعض عام سی کتابوں میں ملیں گے ان میں بھی قطعاً بے سند مذکور ہوں گے۔ 

معلوم نہیں کہ یہ الفاظ کس نے جوڑ دیئے ہیں۔

ویسے اگر تھوڑے سے غور و فکر سے کام لیا جائے تو خود ان الفاظ میں ہی ان کے جعلی ومن گھڑت ہونے کی دلیل موجود ہے۔ 

سحری کھانے سے قبل یہ کہنا کہ ’میں نے کل کے روزے کی نیت کی‘ تو یہ قول واقع اور حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ فجر تو ہوچکی اور یہ روزہ جسکی وہ سحری کھانے لگا ہے کل کا نہیں بلکہ آج کا ہے لہٰذایہاں ’وَبِصَوْمِ الْیَوْمِ‘ جیسے الفاظ ہونے چاہئیں تھے کہ ’میں نے آج کے روزے کی نیت کی‘ کیونکہ کتب لغت میں غَدٍ کا معنیٰ آئندہ کل یا وہ دن جسکا انتظار ہے۔

نیت کے مروجہ الفاظ جہاں شرعاً ثابت و جائز نہیں وہیں لغوی اعتبار سے بھی صحیح نہیں لہٰذا دل کی نیت اور قصد و ارادے پر اکتفا کرنا ہی بہتر ہے اور یہی ثابت بھی ہے۔

اس مسئلہ کو اور بھی آسان طریقہ سے سمجھنے کیلئے لفظ نیت کے لغوی وشرعی معنیٰ کا علم بہت ضروری ہے لہٰذا آپ القاموس المحیط فیروز آبادی، الصحاح للجوہری، مختار الصحاح رازی یا دوسری کوئی بھی لغت کی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں یا المنجد ہی کھول لیں ’ن، و، ی‘ کے مادہ سے بننے والے کلمات کے سلسلہ میں نویٰ الشئ کا معنیٰ و مفہوم واضح کرنے کیلئے ’اَیْ قَصَدَہٗ وَعَزَمَ عَلَیْہِ‘ اس سے ملتے جلتے الفاظ ملیں گے یعنی کسی کام کا قصد و ارادہ اور اسکا عزم کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ دل کے افعال ہیں نہ کہ زبان کے۔

traditional middle eastern food with a couple pray 2026 01 06 10 26 22 utc

رہا نیت کا شرعی معنیٰ تو اس سلسلے میں اہل علم نے مختلف الفاظ سے ایک ہی بات کہی ہے جو حافظ ابن حجر کے الفاظ سے ملتے جلتے ہیں جو انہوں نے نیت کے شرعی مفہوم کو بیان کرنے کیلئے فتح الباری میں لکھے ہیں چنانچہ وہ رقمطراز ہیں:
شریعت نے نیت کے الفاظ کو رضائے الٰہی کے لئے کسی کام کے ارادے کے ساتھ خاص کردیا ہے۔

گویا اعمال میں قلبی نیت (اور قصد و عزم) کا اعتبار ہوگا۔

زبان سے کہے ہوئے الفاظ خصوصاً جبکہ وہ خودساختہ ہیں معتبر نہیں۔

کبار ائمہ دین کی تصریحات سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ نماز و روزہ وغیرہ کی نیت کو زبان سے ادا کرنا خود ساختہ ومن گھڑت فعل ہے چنانچہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ  اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:

جہری ( زبان سے) نیت نہ واجب ہے نہ مستحب، نہ امام ابوحنیفہ ؒکے مذہب میں اور نہ ہی دیگر ائمۂ اسلام میں سے کسی کے مذہب میں بلکہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جہری نیت جائز نہیں۔

جو ایسا کرتا ہے وہ خطاکار ہے اور مخالفِ سنت بھی۔ اس پر تمام ائمۂ دین کا اتفاق ہے۔

traditional middle eastern food with a couple pray 2026 01 06 10 26 22 utc 1

اس کے علاوہ بھی شیخ الاسلام نے متعدد دیگر مقامات پر کئی سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے زبان سے نیت کرنے کے عدمِ جواز اور اسکی کراہت وبدعیت کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا کہ:

نیت کا مقام دل ہے نہ کہ زبان اور تمام ائمۂ اسلام کا تمام عبادات میں ایسی ہی نیت کے بارے میں اتفاق ہے۔

علامہ ابن قیم ؒ نماز کے لئے زبان سے نیت کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں:

نبی اکرمﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو صرف اللہ اکبر کہتے۔

اس سے پہلے (نیت وغیرہ کے لئے) کچھ نہ کہتے تھے اور نہ ہی زبان سے نیت کے الفاظ نکالتے تھے۔

علامہ موصوف مروجہ نیت کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ کسی صحیح تو کیا کسی ضعیف حدیث میں بھی اور مسند تو کیا کسی مرسل حدیث میں بھی نبیﷺ سے ثابت نہیں بلکہ یہ تو صحابہ کرام ؓ میں سے بھی کسی سے منقول نہیں اور نہ ہی تابعین اور ائمہ اربعہ میں سے کسی نے اسے مستحسن کہا ہے۔

نماز یا روزے کی نیت کے بارے میں یہ بات امام نوویؒ، امام ابن تیمیہؒ، ابن قیم ؒ اور دیگر محقق علماء کے کہنے تک ہی محدود نہیں بلکہ کسی حدیث سے اس کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے علماء و فقہائے احناف بھی زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنے کو معتبر شمار نہیں کرتے۔ 

معروف حنفی عالم مشکوٰۃ شریف کی فارسی شرح ’اشعۃ اللمعات‘ میں نماز کی نیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

علماء کا نماز کی نیت کے بارے میں اختلاف ہے جبکہ اس امر پر سبھی متفق ہیں کہ جہراً نیت کرنا تو نا جائز ہے۔ 

اختلاف اس میں ہے کہ لفظوں (زبان سے ) نیت کرنا نماز کے صحیح ہونے کی شرط ہے یا نہیں؟ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ شرط نہیں اور اسے شرط ماننا غلط ہے۔

ramadan kareem greeting photo 2026 01 05 05 22 39 utc

فقہ حنفیہ کی معروف کتاب ہدایہ کے باب شروط الصلوٰۃ میں علامہ برہان الدین مرغینانی لکھتے ہیں:

نیت ارادے کا نام ہے اور شرط یہ ہے کہ آدمی دل سے جانتا ہو کہ وہ کونسی نماز پڑھ رہا ہے۔

رہا زبان سے نیت کرنا تو اسکا کوئی اعتبار نہیں۔

ایسے ہی کبار علمائے احناف میں سے مولانا عبد الحئی لکھنوی ؒ عمدۃ الرعایۃ، حاشیہ شرح وقایہ میں لکھتے ہیں:

بالاتفاق دل سے نیت کرلینا ہی کافی ہو جاتا ہے اور نبی اکرمﷺ  اور آپﷺ کے صحابہ کرام ؓسے یہی طریقہ منقول اور مسنون و ماثور ہے اور یہ کہنا کہ میں نے فلاں نماز اور فلاں وقت کی نیت کی یا کرتا ہوں یہ کسی ایک سے بھی منقول نہیں۔

علمائے احناف کی کتب کے ان اقتباسات کا مفاد یہی ہے کہ عبادات خصوصاً نماز وروزہ کی مروجہ نیت سراسر خانہ ساز ہے۔ 

ان میں سے بعض نصوص صرف نماز کی زبان سے نیت کے بارے میں ہیں جبکہ نماز کی طرح روزے کی نیت بھی ہے اور جس طرح نماز کے لئے یہ نیت کرنا ثابت نہیں کہ میں نے فلاں نماز کی اتنی رکعتوں کی نیت کی اور اس نماز کے قبلہ رو ہوکر پڑھنے اور امام کی اقتدا میں یا انفرادی طور پر پڑھنے کی صراحتیں منقول نہیں بالکل اسی طرح ہی روزے کی نیت بھی قطعاً ثابت نہیں بلکہ یہ جعلی وبناوٹی اور خانہ ساز ومن گھڑت چیز ہے۔