محمد منیر قمر
الخبر
رمضان المبارک کی برکات میں یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں نارِ جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابندِ سلاسل کردیا جاتا ہے۔
رمضان المبارک کی آمد پر آسمان، جنت یا رحمت کے دروازوں کا کھولا جانا اور جہنم یا نارِ جہنم کے دروازوں کا بند کیا جانا اور سرکش شیطانوں (ابلیس اور اس کے ساتھیوں) کا قید و بند کیا جانا، یہ سب اس ماہ کی فضیلت اور روزہ داروں کے لئے اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتیں ہیں۔
مزید پڑھیں
جہنم کے دروازے اور شیاطین کے بند ہونے کا مفہوم کیا ہے؟اس سلسلے میں قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں:
شیطانوں کو اس لئے قید و بند میں ڈال دیا جاتا ہے تا کہ وہ (روزہ دار) مؤمنوں مسلمانوں کو ورغلا و بہکانہ سکیں اور انہیں کوئی دینی ایذا نہ پہنچا سکیں اور اس حقیقی معنیٰ کی طرح ہی الفاظِ حدیث کا مجازی مفہوم بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کثرتِ
ثواب، عفو و کرم اور شیاطین کے بہت کم بہکانے کی طرف اشارہ ہے۔
معروف مفسر و محدث امام قرطبی رمضان المبارک میں شیطانوں کے پابندِ سلاسل اور پابجولاں کییٔ جانے یعنی بیڑیاں پہنائے جانے کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
وہ ایسے روزہ داروں سے بند کردئیے جاتے ہیں جو روزے کی شرائط اور اس کے آداب کاپورا پورا خیال رکھتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس ماہ میں شرِ شیطان کا وقوع کم سے کم ہو اور یہ بات محسوس بھی کی جاسکتی ہے کہ اس ماہِ مبارک میں واقعی دوسرے مہینوں کی نسبت شرکا وقوع بہت کم ہوتا ہے۔
اور شیاطین کو بند کردئیے جانے سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ شر و معصیت یا نافرمانی قطعاً وقوع پذیر ہی نہ ہو کیونکہ نافرمانیوں کے واقع ہونے کے اسباب شیطانوں کے علاوہ بعض دوسرے بھی ہیں جیسے نفوسِ خبیثہ،عاداتِ قبیحہ اور شیاطینِ انس وغیرہ ہیں۔
کسی کے ذہن میں ایک سوال آسکتا ہے کہ جب رمضان المبارک میں شیاطین کو قید و بند میں جکڑدیا جاتا ہے تو پھر پورا مہینہ کسی بھی برائی کا ظہور نہیں ہونا چا ہئے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ماہِ رمضان میں بھی کچھ بدبخت و کم نصیب لوگ بدکاریوں کے ارتکاب سے باز نہیں آتے، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کا ایک جواب تو وہی ہے جو امام قرطبی ؒنے دیا ہے کہ نافرمانیوں اور برائیوں کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب میں سے شیطانوں کے علاوہ بھی کچھ اشیا ہیں، جیسے نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور شیاطینِ انس وغیرہ۔
جبکہ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگ رمضان المبارک میں بھی گناہوں اور برائیوں کے ارتکاب سے باز نہیں رہتے، وہ ایسے بدنصیب ہوتے ہیں کہ برائی ان کی رگ رگ میں سما چکی ہوتی ہے اور وہ اس سے باز نہیں رہ سکتے، جیسے مارگزیدہ شخص ہے کہ سانپ کے ڈس جانے کے بعد بھی دیر تک اس کے زہر کے اثر سے درد محسوس کرتا رہتا ہے، اسی طرح ہی یہ لوگ شیطان گزیدہ روحوں کے مالک ہوتے ہیں اور سال بھر
کے گناہوں کی کثرت سے ان کے دل زنگ آلود ہوجاتے ہیں، جیسا کہ سورۃ المطفّفین، آیت 14 میں ارشادِ الٰہی ہے:
ان کے دلوں پر تو زنگ چڑھ چکا ہے۔
ایسے لوگ رمضان و غیر رمضان، ہر ماہ میں ایک ہی ڈگر پر چلتے چلے جاتے ہیں، انہیں کسی شیطان کے بہکانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔