اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

کیا دنیا اس سال ختم ہوجائے گی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک انسان اپنی اعلیٰ اقدار سے دستبردار نہ ہو جائے
Picture of مشاری الزایدی

مشاری الزایدی

ممتاز سعودی تجزیہ نگار ۔ الشرق الاوسط

اگر قیامت اور یومِ آخر کے سابقہ مقررہ اوقات جھوٹے ثابت نہیں ہوئے تو لیجیے ایک نئی تاریخ حاضر ہے—اور وہ بھی زیادہ دور نہیں : موجودہ سال 2026 کے اختتام پر!

جی ہاں، مگر اس بار یہ پیش گوئی مذہبی قیامت خیز چشموں سے نہیں پھوٹی بلکہ ایک ایسے ’تجزیے‘ سے نکلی ہے جسے سائنسی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟!

مزید پڑھیں

نومبر 1960 میں معروف سائنسی جریدے Science نے یونیورسٹی آف الینوائے کے تین محققین—ہائنز فون فورسٹر، پیٹریشیا مور اور لارنس ایمیو—کا ایک مقالہ شائع کیا، جس میں انہوں نے ایک انتہائی منظرنامے سے خبردار کیا : انسانی تہذیب کا انہدام، جمعہ 13 نومبر 2026 کو۔
ان کے تجزیئے کے مطابق مخصوص وقت میں دنیا کے خاتمے کی بنیادی وجہ ’آبادی کا دھماکہ‘ ہے جسے ’روسیا ٹو ٹے‘ کی رپورٹ میں اس

مقالے کا خلاصہ پیش کیا گیا۔

1960 میں دنیا کی آبادی تقریباً تین ارب تھی جبکہ 2026 کے اوائل تک یہ تعداد 8 ارب سے تجاوز کرچکی ہے۔ تاہم اندازے بتاتے ہیں کہ عالمی آبادی کی بلند ترین سطح تقریباً 2080 کے آس پاس متوقع ہے، یعنی آبادی کے انسانی دھماکے کی چوٹی تک پہنچنے میں ابھی نصف صدی سے زیادہ وقت باقی ہے۔
ذرا تصور کیجیے کہ اس وقت وسائل پر قبضے کے لیے انسانوں اور ریاستوں کے درمیان کشمکش کس قدر وحشیانہ ہوگی! اور تب ماضی کی لڑائیاں ہمیں قابلِ رحم محسوس ہوں گی۔

بہرحال، انسانی تہذیب کے زوال اور نوعِ انسانی کے فنا ہونے سے متعلق اس نوعیت کی پیش گوئیاں، ان تین محققین سے بھی کہیں پہلے سے کی جاتی رہی ہیں، جنہوں نے ہماری ’اختتامی تاریخ‘ اسی سال 2026 بتائی۔

1798 میں برطانوی ماہرِ معاشیات تھامس مالتھس نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ آبادی تیزی سے بڑھتی ہے جبکہ خوراک کی پیداوار کہیں سست رفتار سے آگے بڑھتی ہے اور یہ خلا بالآخر اجتماعی قحط کا سبب بنے گا۔

مگر جدید زرعی اور غذائی ٹیکنالوجیز نے ثابت کر دیا کہ اصل مسئلہ خوراک کی کمی نہیں بلکہ کمزور، خطرناک پالیسیوں اور تنازعات میں ہے—اور یہ سب انسان کے اپنے ’فیصلے‘ ہیں۔

سائنس دانوں کے حقیقی خدشات سے ہٹ کر، وقتی خرافات کے ماننے والوں میں—بلکہ تقریباً ’’سبھی‘‘ کے اندر—اس قسم کی پیش گوئیوں کا ایک عجیب سا شوق پایا جاتا ہے۔

ہمیں 2012 میں مایہ تہذیب کے کیلنڈر سے منسوب قیامت، اور سال 2000 میں نئی صدی کے آغاز کے ساتھ دنیا کے خاتمے کی خرافات یاد ہیں، اور ایسی مثالیں بہت سی ہیں۔

1992 میں ریڈیو نشریات کے معروف میزبان ہیرولڈ کیمپنگ نے “1994?” کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی، جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰؑ کی دوبارہ آمد ستمبر 1994 میں ہوگی۔

اور جب ہم دوسری عیسوی صدی کے اختتام کا ذکر کرتے ہیں، تو یاد آتا ہے کہ جب مسلمانوں کے ہاں پہلی ہجری ہزاروی صدی کے اختتام کا وقت قریب آیا، تو آخرت اور قیامت سے متعلق خرافات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسی تناظر میں مصری عالم جلال الدین سیوطی نے کتاب «الکشف عن تجاوز هذه الأمة الألف» تصنیف کی۔ مصنف کا انتقال 911 ہجری میں ہوا، اور انہوں نے بھی قیامت کے لیے ایک دوسرا وقت متعین کرنے کی کوشش کی!

دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک انسان اپنی اعلیٰ اقدار اور اس لطیف شوق سے دستبردار نہ ہو جائے جو زندگی کی وسعت کا راز ہے—وہ شوق جو احساس کی موت کے مقابل، زندگی کو معنی عطا کرتا ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے