اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

شہزادہ محمد بن سلمان پروگرام : النماص میں تاریخی مسجد کی بحالی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

سعودی عرب میں تاریخی مساجد کی حفاظت اور بحالی کے لیے جاری پراجیکٹ شہزادہ محمد بن سلمان برائے ترقی و بحالیٔ تاریخی مساجد کے تحت اب عسیر ریجن کی گورنری النماص میں واقع مسجد صدر اید کی ازسرنو مرمت اور بحالی کا کام جاری ہے۔

مزید پڑھیں

مسجد یہاں قدیم ترین عبادت گاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی تعمیر خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں 786ء (170 ہجری) میں ہوئی تھی۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد مسجد کی اصل شناخت، طرزِ تعمیر اور تاریخی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید پائیداری کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے، تاکہ یہ عبادت اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن کر آئندہ نسلوں تک اپنا کردار ادا کرتی رہے۔

نویں صدی عیسوی کی یادگار

تقریباً 138 مربع میٹر رقبے پر پھیلی یہ مسجد بلدہ صدر اید میں واقع ہے، جو النماص شہر سے تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق مسجد کی بنیاد نویں صدی عیسوی میں رکھی گئی تھی، جو اسے خطے کی قدیم ترین مساجد میں شامل کرتی ہے۔

مسجد کے محراب میں ایک تاریخی کتبہ موجود ہے، جس پر ربیع الآخر 170 ہجری کی تاریخ درج ہے۔ یہ تحریر مسجد کی قدامت اور اس کی تاریخی اہمیت کا مستند ثبوت سمجھی جاتی ہے۔

namas mosque 2
(فوٹو: واس)

3 پزار سال قدیم بستی سے نسبت

مسجد کا نام قریبی گاؤں صدر اید کے نام پر رکھا گیا، جو جنوبی سعودی عرب کے قدیم ترین آثارِ قدیمہ والے دیہات میں شمار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بستی کی عمر 3 ہزار سال سے زائد ہے۔ اس قدیم پس منظر نے مسجد کو مزید تاریخی وقار عطا کیا ہے اور اسے علاقے کی تہذیبی یادداشت کا حصہ بنا دیا ہے۔

جمعہ کی واحد مرکزی مسجد

طویل عرصے تک مسجد صدر اید النماص گورنری کی واحد جامع مسجد رہی، جہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی تھی۔ اس حیثیت نے اسے نہ صرف مذہبی مرکز بنایا بلکہ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا محور بھی بنائے رکھا۔

اہلِ علاقہ کے لیے یہ مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ اجتماعی شناخت اور روحانی وابستگی کی علامت رہی ہے۔

مقامی طرزِ تعمیر کی جھلک

مسجد کی تعمیر میں النماص اور عسیر کے پہاڑی علاقوں میں رائج مقامی طرزِ تعمیر کو اپنایا گیا، جس کے تحت:
• دیواروں کے لیے پتھر اور مٹی استعمال کی گئی
• چھت کو عرعر (جونپر) کے درختوں کے تنوں سے ڈھانپا گیا
• ساخت کو پہاڑی ماحول سے ہم آہنگ رکھا گیا
یہ تمام عناصر جنوبی سعودی عرب کی روایتی تعمیرات کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں، جو علاقے کی جغرافیائی اور ماحولیاتی صورتحال کے مطابق ڈھالے گئے تھے۔

namas mosque 3
(فوٹو: واس)

مکمل فنکشنل ڈیزائن

مسجد کے ڈھانچے میں اس دور کے تعمیراتی شعور کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ اس میں شامل ہیں:
• مرکزی نماز گاہ
• کھلا صحن
• پتھروں سے بنی وضو گاہ
• پانی کے لیے کنواں
یہ تمام اجزا بھی اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی عبادت گاہوں کی تعمیر میں فعالیت اور سہولت کو ملحوظ رکھا جاتا تھا۔

منصوبے کے مقاصد

پراجیکٹ شہزادہ محمد بن سلمان برائے ترقی و بحالیٔ تاریخی مساجد مملکت کے عمرانی اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کا عملی مظہر ہے۔ اس منصوبے کے تحت تاریخی مساجد کی بحالی صرف مرمت تک محدود نہیں بلکہ ان کی اصل شناخت کی بحالی اور جدید معیار کے مطابق مضبوطی بھی شامل ہے۔
یہ منصوبہ 4 بنیادی اسٹریٹیجک اہداف پر مبنی ہے:
1. تاریخی مساجد کو عبادت کے لیے دوبارہ فعال بنانا
2. ان کی اصل عمرانی شناخت بحال کرنا
3. سعودی عرب کے تہذیبی اور تاریخی پہلو کو اجاگر کرنا
4. تاریخی مساجد کی مذہبی اور ثقافتی حیثیت کو مزید مستحکم کرنا
یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کے اس ہدف سے ہم آہنگ ہیں جس میں قومی ورثے کے تحفظ اور اس سے جدید تعمیراتی ڈیزائن میں استفادے پر زور دیا گیا ہے۔

namas mosque 4
(فوٹو: واس)

قدیم و جدید تعمیر کا امتزاج

اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت قدیم اور جدید تعمیراتی معیارات کے درمیان متوازن ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ بحالی کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ:
• تاریخی شناخت متاثر نہ ہو
• جدید استحکام اور پائیداری کے اصول شامل ہوں
• ترقیاتی کام روایتی خصوصیات کے ساتھ ہم آہنگ رہیں
یہ تمام کام سعودی ماہر کمپنیوں کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں، جو تاریخی عمارتوں کی بحالی میں مہارت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ سعودی انجینئرز کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ہر مسجد کی اصل عمرانی شناخت کو اس کی ابتدائی شکل کے مطابق محفوظ رکھا جا سکے۔

مسجد صدر اید کی بحالی صرف ایک عمارت کی مرمت نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کی حفاظت ہے۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب اپنی مذہبی اور تہذیبی جڑوں کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یہ مسجد جو صدیوں سے عبادت، علم اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز رہی ہے، اب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر دوبارہ اپنی اصل روح کے ساتھ فعال ہو گی۔ یوں شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ منصوبہ نہ صرف ماضی کے ورثے کو زندہ رکھتا ہے بلکہ اسے آئندہ نسلوں کے لیے ایک روشن اور مستحکم بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔