وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عادل الجبير نے کہا ہے کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا اور منصفانہ امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیں
اخبار 24 کے مطابق عادل الجبیر نے واشنگٹن میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مملکت کی شرکت پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کونسل کی کاوشیں مشرقِ وسطیٰ میں ایسے پائیدار اور عادلانہ امن کے قیام کی جانب پیش رفت ہیں جو دو ریاستی حل پر منتج ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن، مشرقِ وسطیٰ کو موت اور تباہی سے نکال کر
امید اور خوشحالی کی جانب لے جاتا ہے، جو معاشروں کے باہمی انضمام، وسائل کے یکجا استعمال اور صلاحیتوں کے فروغ کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سعودی عرب طویل عرصے سے خطے میں امن اور انصاف کے حصول کے لیے سرگرم ہے۔
اس ضمن میں انہوں نے شاہ فهد بن عبد العزيز کی جانب سے پیش کی گئی 8 نکاتی امن تجویز کا حوالہ دیا، جسے عرب دنیا نے منظور کیا اور جس نے ’زمین کے بدلے امن‘ کے اصول کو بنیاد فراہم کی۔
اسی طرح شاہ عبدالله بن عبد العزيز کی جانب سے 2002ء میں پیش کی گئی عرب امن پہل کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزيز اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان خطے میں امن، خوشحالی، سلامتی اور باہمی انضمام کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
انہوں نے کونسل کے ساتھ تعاون کے لیے مملکت کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ برسوں کے دوران فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے اور پورے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔