فضل الرحمن ندوی
جدہ
اگر ماہ رمضان میں ہماری مغفرت نہ ہو پائی تو پھر کون سا موقعہ آئے گا جب ہماری مغفرت ہوگی؟
اگر ماہ رمضان میں ہماری حالت زار کی طرف رحم وکرم کی نگاہ متوجہ نہ ہوئی تو پھر کب متوجہ ہوگی؟
اگر ماہ فضیل میں جہنم کی آگ سے گلو خلاصی نصیب نہ ہوسکی تو پھرکب مل سکے گی؟
بخدا رمضان کریم اللہ کی طرف سے دی گئی نعمت غیر مترقبہ ہے۔
یہ ایسا موقعہ ہے جس کا بدیل نہیں لہذا اسے غنیمت جانیں، بارباریہ موقعہ ہاتھ آنے والا نہیں۔
ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑایئے تو پتہ چل جائے گا کہ کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ سال رمضان کی روزے رکھے تھے اور اس سال وہ روزہ رکھنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ اپنی اپنی قبروں کے آغوش میں ہیں۔
مزید پڑھیں
ان میں سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو تمنا کر رہے ہوں گے کہ انہیں دوبارہ دنیا میں لوٹادیا جائے، چاہے وہ ایک تسبیح یا تحمید و تکبیر وتہلیل کے وقفہ کے بمقدار ہی کیوں نہ ہو، چاہے ان کو اس کے عوض میں دنیا و مافیہا کے برابر مال ودولت کیوں نہ دینا پڑے؟
لیکن افسوس صد افسوس اب تمناؤں اور آرزوؤں سے کچھ ہونے والا نہیں۔ مہلت کا وقت ختم ہوچکا۔
اب تو صرف اعمال کے حساب و کتاب کا مرحلہ باقی ہے اور آخر کار وہ بھی انجام پذیر ہوکر رہے گا۔
ہمارے تصرف میں اب بھی موقعہ باقی ہے۔
اس ہاتھ آئے موقعہ کو ضائع ہونے مت دیں اور اسے سنہری موقع سمجھ کر غنیمت جانیں اس لئے اس فضیل ماہ میں حسنِ ادائیگی کے ساتھ عمل کی طرف متوجہ ہوجائیں، اطاعت و فرمانبرداری، عبادت و ریاضت کے طرف بھر پور توجہ دینا اپنا مطمح نظر بنالیں۔
اس ماہ کے اوقات کو بیش بہا نعمت سمجھتے ہوئے رب کریم کے تقرب کا اسے ذریعہ بنائیں نیز طاعات و عبادات میں روزہ نماز، صدقہ و خیرات، قرآن کریم کی تلاوت و تفسیر، اذکار و مناجات، تسبیح و دعا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر، والدین کی اطاعت و فرمانبرداری، صلہ رحمی اور اصلاح ذات البین، اسی کے ساتھ یتیموں بیواؤں، فقراء ومساکین، محتاجوں و لاچاروں پر احسان کرنا اپنا شیوہ ٔزندگی بنالیں تواللہ تعالیٰ ہم پر رحم وکرم کی برکھا برسائے گا۔
جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے، ان سے کنارہ کشی اختیار کریں، معاصی اور بے حیائی کے کاموں کا ارتکاب کرکے اپنے روزوں کو فاسد نہ کریں۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
جو شخص جھوٹ بولنا یا اس پر عمل پیرا ہونا ترک نہ کرے اور جاہلی حرکتوں سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کواس بات کی قطعی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا ترک کرے۔ (بخاری)
مراد یہ کہ ایسے شخص کا روزہ غیر مقبول ہے بلکہ وہ تو فاقہ کشی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے فاقہ کشی کا حکم نہیں دیا بلکہ روزہ رکھنے کو کہا ہے۔
رسول اللہﷺ رمضان کے ایام میں دوسروں سے زیادہ عمل خیر کے لئے کوشاں نظر آتے تھے۔ آپﷺ کی ایام رمضان میں نماز، روزہ ،قراۃ قرآن، اذکار و مناجات اور صدقہ خیرات کے کاموں کی طرف بھر پور توجہ مرکوز رہا کرتی تھی اور سلف صالحین اس بارے میں اپنے نبیﷺ کی اقتداء میں ایام رمضان میں کمربستہ ہوجایا کرتے تھے چنانچہ سلف صالحین میں سے بعض اسلاف کا تو یہ معمول تھا کہ وہ ماہ رمضان میں قیام کے اندر 3 دنوں میں پورا قرآن کریم ختم کرلیا کرتے تھے اور بعض لوگوں کا 7 راتوں میں قرآن کریم ختم کرنے کا معمول تھا جبکہ بعض 10 راتوں میں حالت قیام میں قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث (سائب بن یزیدؓ میں وارد ہوا ہے)کہ قاری قرآن قیامِ رمضان میں کبھی 100 آیات والی سورت پڑھتا تھا حتیٰ کہ ہم لوگوں کو طول ِقیام کی وجہ سے عصا یا لاٹھی کا سہارا لینا پڑتا تھا۔
اتنا طویل قیام ہوتا تھا کہ ہم لوگ قیام سے فجر کے وقت چھٹی پایا کرتے تھے۔
مراد یہ ہے کہ پوری رات قیام میں گزرتی تھی اور فجر سے تھوڑی دیر قبل ہی قیام سے چھٹی مل پاتی تھی۔
اس پُر بہار موسم میں اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری کے کام کرنے کی تگ دو کریں اور اس میں سلف صالحین کی اقتدا پیش نظر ہو۔
رمضان کریم توبہ و مغفرت اور جہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے، یہ تو وہ مہینہ ہے جس میں پتہ نہیں کتنے عاصی توبہ کرتے ہیں، جس میں پتہ نہیں کتنے اللہ کی جناب سے دور رہنے والے اللہ کے حضور حاضری دے کر انابت او ر رجوع کرتے ہیں، اس ماہ میں پتہ نہیں کتنے لوگ غفلت و لاپرواہی کی زندگی سے نادم ہوکر سچی توبہ کرتے ہیں۔
اس ماہ مبارک کے بابرکت لمحات تمام لوگوں کے لئے عام ہیں جو ان کو اللہ کے اس قول کی نوید بشارت سے آگاہ کررہے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
اے نبی(ﷺ) آپ (میری جانب سے) فرمادیجئے کہ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دے گا، واقعی وہ بڑی بخشش اور بڑی رحمت والا ہے۔ (الزمر53)
اس ماہ مبارک کے فضائل و محاسن اللہ کی وسیع و عریض رحمت اور اس کی عظیم الشان مغفرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمادیا ہے:
اور وہ اللہ ہی کی ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو شرف قبولیت سے نوازتی ہے اور وہی ہے جو گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے اس سے وہ بخوبی واقف ہے۔ (الشوریٰ 25)
یہ ماہ فضیل رحمت و مغفرت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔
اس باب میں یہ مہینہ عاصیوں اور گناہ گاروں، فرمانبرداروں اور اطاعت شعاروں دونوں کے لئے بیک وقت ایک حیثیت کا حامل ہے۔
جہاں تک اطاعت شعاروں اور فرمانبرداروں کا معاملہ ہے تو یہ ماہ مبارک ان کے لئے اطاعت و فرمانبرداری اور نیکیوں کے حصول کے سلسلہ میں اضافہ اور بڑھوتری کا سبب ہے اور جہاں تک گناہ گاروں اور عاصیوں کا معاملہ ہے تو یہ ماہِ فضیل ان کے لئے اپنی تقصیر و نافرمانیوں اور گناہوں سے توبہ و استغفار کا پر بہار موسم بن کر جلوہ افروز ہوتا ہے۔
وہ اس کے پر بہار دنوں میں اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور مغفرت کے طلب گارہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر جو شخص رمضان کا مبارک مہینہ پالے اور اس کی مغفرت و بخشش نہ ہوپائے تو وہ حقیقت میں محرومِ زمانہ ہے اور بلاشبہ وہ گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اسی لئے حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا جس شخص کو رمضان مبارک کا مہینہ ملے اور اس کی بخشش نہ ہوپائے اور وہ عذاب جہنم سے دوچار ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے دور کردے اور نبی کریمﷺ کو اس بد دعاء پر آمین کہنے کا حکم دیا تو نبی کریمﷺ نے آمین کہا۔ (بخاری)
نبی رحمت ﷺ کا ارشاد گرامی قدر ہے:
جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت کے استحضار کے ساتھ روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور جس شخص نے لیلۃ القدر میں ایمان واحتساب کی نیت سے قیام لیل کیا اس کے سرزد گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ)
تو جہاں تک توبہ و استغفار کا معاملہ ہے وہ سہل اور آسان ہے اس کی انجام دہی میں کوئی مشقت نہیں۔
اس معاملہ میں کسی قسم کی دشواری سے سابقہ پڑنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔
توبہ نام ہے گناہ سے کنارہ کشی اور اس پر ندامت اور آئندہ اس گناہ کے نہ کرنے کے عزم کا۔
مراد یہ ہے کہ معاصی ا ور ذنوب سے منہ موڑ لینے اور ماضی میں سرزد شدہ گناہوں پر ندامت و پشیمانی نیز آئندہ اس کی انجام دہی سے امتناع کا نام توبہ ہے۔
جن لوگوں کے دلوں کے دروازے رحمت و انوار الٰہی کے لئے نہیں کھلتے اور اس ماہ مبارک میں ان کے قلوب تقویٰ اور خشیت کی کرنوں سے متاثر ہوکر نہیں جگمگاتے اور ان کے قلب میں ایمان کا داعیہ حرکت پذیر نہیں ہوتا تو سمجھ لو کہ یہ نتیجہ ہے ان کے قساوت ِقلبی کا اور ان کے دلوں پر ذنوب و معاصی کی کائی کے تہ بہ تہ جم جانے کا۔
گویا ان کے گناہ جمع ہوتے ہوتے پہاڑوں کی مانند ہوچکے ہیں جن کی وجہ سے انکے دل بے نور ہوگئے ہیں، ان کی آنکھوں میں اس نور کا مشاہدہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی۔
وہ بے بصیرت ہوچکی ہیں، وہ لوگ اپنی غفلت، اپنے عناد، اپنی شقاوت و حرماں نصیبی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔
اس ماہ مبارک سے ان کے اندر ایمان و یقین کا داعیہ کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا۔