مقبول احمد سلفی
طائف
رمضان کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہوچکا ہے، چاروں طرف مسلمانوں میں خوشی ہی خوشی ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کو اس مہینے کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ نیکی، برکت، بخشش، عنایت، توفیق، عبادت، زہد، تقویٰ، مروت، خاکساری، مساوات، صدقہ و خیرات، رضائے مولیٰ، جنت کی بشارت اور جہنم سے گلو خلاصی کا مہینہ ہے۔
رمضان المبارک کا روزہ، تراویح، صدقہ، دعا، ذکر، تلاوت ،مناجات، عمرہ اور دیگر اعمال صالحہ جہاں مردوں کیلئے ہیں وہیں عورتوں کیلئے بھی ہیں۔
ان اعمال کا اجر و ثواب جس طرح مردوں کو نصیب کرتا ہے ویسے ہی اللہ تعالیٰ عورتوں کو بھی عنایت کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
خواتین میں عام تصور یہ ہوتا ہے کہ رمضان تو صرف مردوں کا ہے، ہمارا کام صرف سحری پکانا اور افطار تیار کرنا ہے۔
عورتیں روزہ رکھتی ہیں مگر دیگر اعمال خیر میں پیچھے رہتی ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ رمضان المبارک کے احکام ومسائل سے عدم واقفیت ہے۔
جس طرح مرد وں پر روزہ رکھنا فرض ہے ویسے عورتوں پر بھی فرض ہے
اور جس طرح مردوں کو رمضان المبارک میں کثرت سے اعمال خیر انجام دینا چاہئے ویسے ہی عورتوں کو بھی انجام دینا چاہئے۔
تمام قسم کی طاعت وبھلائی پر محنت کرنا:
مثلاً تلاوت قرآن اور اس میں تدبر و تفکر، بکثرت صدقہ و خیرات، ذکر الٰہی اور فرائض و واجبات کے علاوہ نفلی عبادات پر محنت کرنا۔
افطار میں جلدی کرنا:
نبیﷺ کا فرمان ہے: اُس وقت تک لوگ بھلائی کی راہ پر گامزن رہیں گے جب تک کہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے (اور اس سے یہود و نصاریٰ کی مخالفت مقصود ہے) کیونکہ یہود و
نصاریٰ افطاری میں تاخیر کرتے ہیں۔ (بخاری)
تازہ کھجور سے افطار کرنا:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کرلیا کرتے تھے، اگر خشک کھجوریں میں میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹوں پر ہی روزہ افطار کرلیا کرتے تھے۔ (احمد و ابوداؤد، حسنہ البانی)
افطار کے وقت دعا کرنا:
ویسے دعا ہروقت مشروع ہے اور دعا عبادت ہے مگر بعض اوقات دعا کے لئے بہت اہم ہیں، ان میں ایک افطار کا وقت بھی شمار کیاجاتا ہے، اس کی متعدد دلیلیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک منصف امام کی، دوسرے روزہ دار کی جب وہ افطار کرے، تیسرے مظلوم کی۔ (ترمذی)
سحری کرنا:
بغیر سحری کے بھی روزہ درست ہے مگر نبیﷺ نے خود بھی سحری کھائی ہے اور دوسروں کو بھی سحری کی ترغیب دی ہے اور فرمایا ہے سحری کھاؤ کیونکہ اس میں برکت ہے۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کا فرق ہے۔
بحالتِ روزہ بری باتوں سے بچنا:
اگر کوئی گالی دے تو کہہ دیں میں روزے سے ہوں۔
رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں ہو تو گندی باتوں اور نادانیوں سے پرہیز کرے، اگر کوئی تمہارے ساتھ گالی گلوج اور قتال کرے تو کہہ دو میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔ (مسلم)
اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (بخاری)
بعض عورتوں میں گالی گلوج اور لعن طعن بہت زیادہ ہے۔
روزے کی حالت میں اس کا خاص خیال رکھنا ہے کہ زبان سے کہیں گندی باتیں نہ نکلے۔
روزہ صرف بھوک وپیاس برداشت کرنے کا نام نہیں۔
آدابِ صیام میں ہے کہ ہم ہاتھ، پیر، دل، دماغ اور زبان تمام اعضائے بدن کو منکرات سے دور رکھیں۔
لوگوں کو افطار کرانا:
نبی پاک ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا تو اس شخص کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا اورروزہ دار کے اپنے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائیگی۔ (ترمذی)
عورت چاہے تو اپنے ذاتی پیسے سے دیگر خواتین کو افطار کراسکتی ہے، شوہر کی طرف سے افطار کی دعوت پر بیوی کو بھی اجر ملے گا اگر اس کے کاموں میں مدد کرتی ہے۔
عمرہ کرنا:
رمضان میں مرد کی طرح عورت بھی عمرہ کرسکتی ہے۔
اس ماہ مبارک میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے۔
ایک دوسری روایت میں نبیﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر کہا گیا ہے۔
نبیﷺ نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا تھا: جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرلینا کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ (مسلم)
عورت ہو یا مرد دوسرے ملک سے سفر کر کے سعودی عرب آنا اور عمرہ کرنا مشقت کا باعث ہے اور رمضان جیسے مبارک مہینے میں ایک اجر کے حصول کے لئے کئی اجر والے کام چھوٹنے کا امکان ہے، اس لئے جو سعودی عرب میں موجود ہیں ان کے لئے تو آسانی ہے، باہری لوگوں کے لئے کلفت کے سبب اپنے اپنے ملکوں میں ہی رمضان گزارنا زیادہ بہتر ہے۔
ہاں، سعودیہ میں پورا رمضان گزارنے کا ارادہ ہو تو اس کی بات الگ ہے۔
مسواک کرنا:
رسول اللہﷺ ہمیشہ مسواک کیا کرتے تھے اور رمضان شریف میں بکثرت کیا کرتے تھے۔
عمار بن ربیعہؓ فرماتے ہیں: میں نے نبیﷺ کو روزے کی حالت میں شمار کرنے سے زیادہ مسواک کرتے دیکھا۔ (بخاری) اسے امام بخاری نے تعلیقا ً روایت کیا ہے۔
ً بچوں سے روزہ رکھوانا:
اگر بچہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے عادتاً روزہ رکھوانا چاہئے۔
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم اپنے بچوں سے روزہ رکھواتے تھے اور ان کے لئے کھلونے رکھتے۔
جب بچے کھانے کے لئے روتے تو ہم انہیں وہ کھلونے پیش کردیتے یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا۔ (بخاری)
حدیث میں ایک عورت کا بہترین کردار بیان کیا گیاہے کہ اسے اپنے بچوں سے بھی روزہ رکھوانا چاہئے۔
اعتکاف:
جس طرح مرد کیلئے اعتکاف مسنون ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی اعتکاف مشروع ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ اعتکاف کی جگہ صرف مسجد ہے۔
جیساکہ قرآن کی آیت سے واضح ہے اور نبیﷺ نے اس پہ عمل کرکے دکھایا ہے۔
اگر عورت اعتکاف کرے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا ہوگا خواہ جامع مسجد ہو یا غیر جامع۔
صرف جامع مسجد میں اعتکاف والی روایت ( لااعتکاف الا فی مسجد جامع )پر کلام ہے۔
اگر جامع مسجد میں اعتکاف کرے تو زیادہ بہتر ہے تاکہ نماز کیلئے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے۔
اعتکاف رمضان میں کئے جانے والے ان اعمال میں سے ہے جس کی تاکید آئی ہے اور یہ ان سنتوں میں سے سنت مؤکدہ ہے جس پہ نبیﷺ نے ہمیشگی برتی ہے اور آخری عشرے میں اس کی تاکید کی ہے۔
اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبیﷺ ہرسال رمضان میں 10 دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے، انتقال کے سال آپﷺ نے 20 دن کا اعتکاف کیا۔ (بخاری)
نماز تراویح:
سعودی عرب میں تو عورتیں مسجد میں آکر جماعت سے تراویح کی نماز ادا کرتی ہیں۔
تراویح جسے قیام اللیل اور تہجد بھی کہتے ہیں رمضان المبارک میں اس کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے۔ نبیﷺ کا فرمان ہے: جس نے رمضان کی راتوں میں نماز تراویح پڑھی ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ تواس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ (مسلم)
لہذا عورتوں کو بھی تراویح کی نماز کا اہتما م کرنا چاہئے۔
اگر مسجد میں عورتوں کے لئے علیحدہ انتظام نہ ہو تو گھر پر ہی جماعت سے یا اکیلے تراویح کی 8 رکعات نماز پڑھے پھر 3 رکعات وتر پڑھے۔
شب قدر میں اجتہاد:
لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی فضیلت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اس رات قیام کا اجر پچھلے سارے گناہوں کا کفارہ ہے۔
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرے اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (بخاری)
جہاں تک اس رات کی تعیین کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ملتے ہیں مگر راحج قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21،23،25،27،29) میں سے کوئی ایک ہے۔
اس کی دلیل نبیﷺ کا فرمان ہے: لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری)
لہذا عورتوں کو بھی طاق راتوں میں شب بیداری کرنی اور خوب خوب طاعت و بھلائی کا کام کرنا چاہئے۔
جب جاگنا ہی مقصود نہیں بلکہ جاگ کر بھلائی کا کام کرنا مقصود ہے۔
عورتوں کے چند مسائل:
بیمار عورت کا حکم:
بیمار عورت کی دونقسمیں ہیں: ایک وہ بیمار عورت جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضرر محسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑسکتی ہے۔
ضرر و نقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑے گی اتنے کا بعد میں قضا کرے گی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اور جو کوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ (البقرۃ 184)
دوسری وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑھے مرد و عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اُن دونوں کیلئے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہر روزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع (تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔ (البقرۃ 184)
یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلاً زکام، سر درد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں۔
مسافر عورت کا حکم:
رمضان میں مسافر کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے:
اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ (البقرۃ 184)
اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافرہ حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتی ہے، اسکے بہت سارے دلائل ہیں، مثلاً ایک صحابی نبیﷺ سے سفر میں روزہ کے بابت پوچھتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ چھوڑ دو۔ (نسائی)
مسافرہ چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں کریگی۔
حیضاء و نفساء کا حکم:
حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کیلئے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے اور جیسے ہی خون بند ہو جا ئے روزہ رکھنا شروع کردے۔
کبھی کبھی نفساء 40 دن سے پہلے ہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے۔
عورت کے لئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے۔
حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا بلکہ روزہ جاری رکھنا ہے۔
مرضعہ وحاملہ کا حکم:
دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کے لئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے۔
بلاضرورت روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: اللہ تعا لیٰ نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانیوالی کو روزے معاف فرما دیئے۔ (نسائی)
جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اسکی قضا کرے، حاملہ و مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکر ملتا ہے جو کہ صحیح نہیں۔
چھوٹی بچی کے روزہ کا حکم:
اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ تربیت کے طور پر بچوں سے روزہ رکھوانا چاہئے اگر طاقت رکھتے ہوں خواہ لڑکا ہو یا لڑکی لیکن جب بالغ ہوجائے تو پھر اس پر روزہ فرض ہوجاتا ہے۔
نبیﷺ کا فرمان ہے: میری امت میں سے 3 قسم (کے لوگوں) سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تک وہ ہوش میں آجائے اور سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار ہوجائے اور بچے سے جب تک وہ بالغ ہو جائے۔ (ابو داؤد)
بعض علماء نے روزہ کیلئے بچوں کی مناسب عمر10 سال بتلائی ہے کیونکہ حدیث میں10 سال پہ ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے۔ بہر کیف دسواں سال ہو یا اس سے پہلے کا اگر بچے روزہ رکھ سکتے ہوں تو سرپرست کی ذمہ داری ہے کہ ان سے روزہ رکھوائیں۔
قصدا ًروزہ توڑنے والی عورت کا حکم:
رمضان میں بغیر عذر کے قصدا ًروزہ چھوڑنے والی عورت گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے۔
اسے اولاً اپنے گناہ سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور جو روزہ چھوڑی ہے اس کی بعد میں قضا بھی کرے اور اگر کوئی بحالت روزہ جماع کرلیتی ہے اسے قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہے۔
کفارہ میں لونڈی آزاد کرنا یا مسلسل 2 مہینے کا روزہ رکھنا یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
یاد رہے بلاعذر روزہ توڑنے کا بھیانک انجام ہے۔
بے نمازی عورت کے روزے کا حکم:
جیسے روزہ ارکان اسلام میں ایک رکن ہے ویسے ہی نماز بھی ایک رکن ہے۔
نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔
جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
نبیﷺ فرمان ہے: ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے، جس نے نماز کو چھوڑا پس اس نے کفر کیا۔ (ترمذی)
اس وجہ سے تارک صلاۃ کا روزہ قبول نہیں ہوگا بلکہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کیا جائیگا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے۔
اللہ تعالی رمضان کے برکات و حسنات سے ہم سب کا دامن بھر دے اور اس ماہ مبارک کو ہماری نجات کا ذریعہ بنادے، آمین۔