رمضان المبارک میں سحری کو اکثر زیادہ سے زیادہ کھانے کا موقع سمجھ لیا جاتا ہے، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہی عادت بعض افراد کے لیے دن بھر کے شدید سر درد اور شقیقہ (مائیگرین) کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرِ امراضِ دماغ و اعصاب ڈاکٹر اسماعیل البابللی نے خبردار کیا ہے کہ سحری کو چکنائی، میٹھے اور تیز ہضم ہونے والی نشاستہ دار غذاؤں سے بھر دینا جسم اور دماغ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سحری کو ’سمارٹ فیول‘ ہونا چاہیے، نہ کہ ایک بھاری دعوت۔
اچانک شوگر گرنے کا خطرہ
ڈاکٹر البابللی کے مطابق سحری میں زیادہ میٹھا یا سفید آٹے والی غذائیں کھانے سے خون میں شوگر پہلے تیزی سے بڑھتی ہے، پھر انسولین کے اخراج کے باعث اچانک گر جاتی ہے۔
اس کیفیت کو (Reactive Hypoglycemia ) ری ایکٹو ہائپوگلیسیمیاکہا جاتا ہے۔
شوگر کا یوں اچانک گرنا بعض افراد میں شقیقہ کے شدید دورے کو متحرک کر سکتا ہے، خاص طور پر چند گھنٹوں کے روزے کے بعد۔
ایک مریضہ کی کہانی
ڈاکٹر البابللی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک خاتون کا کیس شیئر کیا، جنہیں انہوں نے ’ام عمر‘ کا نام دیا۔ وہ سحری میں کنافة، لقیمات اور چاول کے ساتھ چکن جیسی بھاری اور میٹھی غذا کھاتی تھیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ اس سے دن بھر بھوک نہیں لگے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رمضان میں روزانہ دوپہر تقریباً 2 بجے انہیں شدید شقیقہ کا حملہ ہوتا تھا، حالانکہ اس سے پہلے انہیں باقاعدہ سر درد کا مسئلہ نہیں تھا۔ بعد میں تشخیص سے پتا چلا کہ مسئلہ تیز رفتار شوگر گرنے کا تھا۔
معالج نے جب ان کی سحری کو تبدیل کر کے براؤن بریڈ، انڈا، دہی یا لسی، کیلا اور تین کھجوریں شامل کیں ، جن میں پوٹاشیم اور میلنیشیم موجود ہوتا ہے، تو توقع کی گئی کہ باقاعدگی سے اس غذا پر عمل کرنے سے دورے کم یا ختم ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر البابللی کے الفاظ میں’درست سحری خود ایک علاج بن سکتی ہے‘۔
رمضان میں سر درد کی ’محرک مثلث‘
ماہرِ اعصاب کے مطابق رمضان میں شقیقہ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ 3 بنیادی عوامل کا مجموعہ ہے، جسے وہ ’محرک مثلث‘ قرار دیتے ہیں:
1۔ پانی کی کمی (Dehydration)
دماغ پانی کی کمی کے لیے نہایت حساس ہے۔ طویل روزہ اور گرمی کی شدت درد کو بھڑکا سکتی ہے۔
2۔ شوگر کا گرنا
دماغ توانائی کے لیے گلوکوز پر انحصار کرتا ہے۔ اس کی کمی درد کے سگنلز کو متحرک کر سکتی ہے۔
3۔ نیند میں خلل
رات گئے تک جاگنا اور ٹوٹی ہوئی نیند شقیقہ کے بڑے اسباب میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ دو اور عوامل بھی بعض افراد میں سر درد کو بڑھا سکتے ہیں۔ مثلاً:
• زیادہ کافی پینے والوں میں کیفین کی اچانک کمی
• سگریٹ نوشی کرنے والوں میں نکوٹین کا عارضی انخلا
ڈاکٹر اسماعیل البابللی نے رمضان میں سر درد سے بچنے کے لیے چند عملی تجاویز بھی دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانی آہستہ آہستہ پئیں۔ افطار سے سحری تک ہر گھنٹے کچھ مقدار میں پانی پینا جسم میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اسی طرح پروٹین اور فائبر پر توجہ دینی چاہیے۔ سحری میں دلیہ، دالیں، انڈے، دہی اور فائبر والی غذائیں شامل کریں تاکہ شوگر دیر تک متوازن رہے۔ اس کے علاوہ پوٹاشیم سے بھرپور پھل لیں۔ مثلاً کھجور، کیلا اور خوبانی جیسے پھل نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔
ساتھ ساتھ نمکین اور مصالحے دار غذا کو کم کریں۔ کیونکہ زیادہ نمک پیاس اور پانی کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح نیند کا شیڈول برقرار رکھا جائے اور ممکن ہو تو سونے اور جاگنے کے اوقات کو متوازن رکھیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ رمضان میں سحری صرف پیٹ بھرنے کا نام نہیں بلکہ پورے دن کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کی بنیاد ہے۔ غذا کا غلط انتخاب سر درد، شقیقہ اور شوگر کے اچانک گرنے جیسے مسائل کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ متوازن اور سادہ غذا روزے کو آسان بنا سکتی ہے۔
ڈاکٹر البابللی کے مطابق اعتدال اور شعوری انتخاب ہی صحت مند روزے کی کنجی ہے تاکہ عبادت کے اس مقدس مہینے میں جسم بھی مطمئن رہے اور ذہن بھی پرسکون۔