اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

رمضان میں جازان کی  منفرد روایت، ننھی بچیوں کے ہاتھوں پر مہندی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

جازان میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک قدیم سماجی روایت دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے جس میں کم عمر بچیوں کے ہاتھوں پر حنا کے نقش بنائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

یہ روایت خاص طور پر ان بچیوں کے اعزاز میں ہوتی ہے جو پہلی بار روزہ رکھنے کا تجربہ کرتی ہیں اور اس طرح اس موقع کو خوشی، حوصلہ افزائی اور روحانی تربیت کے رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے۔

سبق ویب سائٹ کے مطابق رمضان کے آغاز پر مہندی کی اس روایت کو جازان کے خاندان نسل در نسل منتقل کرتے آرہے ہیں اور اسے اپنے ثقافتی ورثے و مذہبی اقدار سے گہرے تعلق کی علامت سمجھتے ہیں۔ 

اس حوالے سے گھروں میں ایک خوشگوار ماحول ہوتا ہے جہاں ننھی بچیاں قدرتی اور شوخ رنگوں سے مزین حنا (مہندی) کے خوبصورت ڈیزائن اپنے ہاتھوں پر لگواتی ہیں۔ یہ سجاوٹ انہیں فخر، اپنائیت اور اپنے خاندان اور مقامی ماحول سے وابستگی کا احساس دلاتی ہے۔

جازان کے خاندان مہندی کو ایک نرم اور تربیتی انداز میں حوصلہ افزائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ بچیوں کے دلوں میں روزے کی اہمیت کو مثبت انداز میں راسخ کیا جا سکے۔

ہاتھوں پر بنائے جانے والے یہ نقوش محض آرائش نہیں ہوتے بلکہ ان میں علامتی معنی بھی پوشیدہ ہوتے ہیں جو روزے میں کھانے پینے سے اجتناب کی یاد دہانی کو ایک خوشگوار اور قریبی خاندانی ماحول میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس طرح عبادت کا پیغام سختی کے بجائے محبت اور خوشی کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

jazan mehendi 1
(فوٹو: واس)

یہ نقوش گھریلو ماحول میں جمالیاتی و روحانی رنگ بھی بھر دیتے ہیں اور رمضان کی راتوں کو خاندانی قربت اور باہمی تعلق کا احساس دیتے ہیں۔ اس موقع پر گھر کے افراد اجتماعی طور پر شریک ہوتے ہیں جس سے خاندانی رشتے مزید مضبوط ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔

جازان کی معروف مہندی آرٹسٹ مریم عواجی کا کہنا ہے کہ یہ روایت ایک سماجی پہل کی حیثیت رکھتی ہے جس کے مثبت تربیتی اور ثقافتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سادہ اور فطری انداز کی تقریب کے ذریعے بچیوں میں کم عمری سے عبادت سے محبت پیدا کی جاتی ہے اور انہیں رمضان کی روحانی قدروں سے قریب کیا جاتا ہے۔

مریم عواجی نے مزید بتایا کہ یہ روایت صرف ظاہری خوشی تک محدود نہیں بلکہ صبر، نظم و ضبط اور ذمہ داری جیسے اوصاف کو بھی فروغ دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں مقامی ثقافت اور شناخت پر فخر کا جذبہ بھی پروان چڑھتا ہے۔

جازان میں مہندی کے نقوش اپنی تنوع، باریکی اور خوبصورتی کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان ڈیزائنز میں ہلال، ستارے، پھول اور باہم جڑی ہوئی جیومیٹری اشکال شامل ہوتی ہیں، جنہیں روایتی فنی مہارت کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔

یہ نقوش نہایت احتیاط سے بچیوں کے ہاتھوں پر اس انداز میں بنائے جاتے ہیں کہ لکیریں اور اشکال باہم ہم آہنگ دکھائی دیں اور ایک مکمل اور دلکش منظر پیش کریں، جو جازانی عوامی فن کی مہارت اور ثقافتی دولت کی عکاسی کرتا ہے۔

مہندی کی یہ روایت جازان کے ثقافتی اور سماجی منظرنامے کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے جہاں رمضان کے ایمانی ماحول کے ساتھ خوشی اور روایت کا امتزاج نظر آتا ہے۔ ہر خاندان کے لیے یہ ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے جو نسلوں کے درمیان اقدار اور روایات کی منتقلی کا ذریعہ بنتا ہے اور علاقے کے ثقافتی ورثے کی خوبصورتی اور روحانیت کو برقرار رکھتا ہے۔