اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

امت کے لئے باعث برکت، سحری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

محمد منیر قمر

الخبر

سحری کھانا مستحب عمل اور باعث برکت ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺسے اس بارے میں متعدد احادیث ثابت ہیں جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم، ترمذی و نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ارشادِ نبویﷺ ہے:
سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانا باعثِ برکت ہے۔

مزید پڑھیں

نبی اکرمﷺنے تو اہلِ کتاب کے روزوں اور مسلمانوں کے روزوں میں وجہ امتیاز ہی سحری کھانے کو قرار دیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی و نسائی، مسند احمد اور ابن خذیمہ میں ارشادِ نبویﷺہے:

ہمارے اور اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے روزوں کے مابین سحری کھانے کا ہی فرق ہے۔ 

لہٰذا بعض لوگ جو افطاری سے نصف شب تک کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے ہی رہتے ہیں اور سحری کے وقت کچھ کھائے پیئے بغیر ہی سوجاتے ہیں کیونکہ اسوقت ان کے پاس کچھ کھاسکنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی ان کا یہ طریقۂ کار قطعاً خلافِ سنت اور روزہ کے اجر و ثواب میں کمی کا باعث ہے۔

زیادہ نہیں تو چند لقمے ہی سہی سحری کے وقت کچھ نہ کچھ ضرور کھانا چاہئے تاکہ سنت پر عمل ہوجائے اور خیر و برکت حاصل ہو۔ 

سحری کھانے کی تاکید کا اندازہ اس سے ہی کیا جاسکتا ہے کہ سنن سعید بن منصور میں ہے:

سحری کھاؤ ،چاہے صرف ایک لقمہ ہی کیوں نہ ہو۔

decorative ramadan scene with dates prayer beads 2026 01 08 07 01 51 utc

 بعض دیگر احادیث میں پانی سے سحری کرنے اور اسکے بھی کم از کم ایک گھونٹ پینے کا ذکر وارد ہوا ہے چنانچہ تاریخِ دمشق لاِبن عساکر میں حضرت سراقہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:

سحری کھاؤ چاہے وہ صرف پانی پینے سے ہی کیوں نہ ہو۔

صحیح ابن حبان میں حضرت ابن عمر سے مسند احمد اور المختارہ للضیاء میں حضرت ابو سعید خدریؓ سے اور مسند ابویعلی میں حضرت انس ؓسے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

سحری کھاؤ چاہے وہ صرف ایک گھونٹ پانی کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔

سحری میں کوئی بھی حلال چیز کھائی جاسکتی ہے، کوئی پابندی نہیں البتہ ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ارشادِ نبویﷺ ہے: مؤمن کی بہترین سحری، کھجور ہے۔

اس حدیث میں سحری کے وقت بھی کھجور کھانے کی ترغیب دلائی گئی ہے لہٰذا اگر محض کھجور کے ساتھ ہی سحری کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم کھانے کے ساتھ چند دانے کھجوریں ضرور کھا لینی چاہئیں تاکہ اس ارشادِ نبویﷺکی تعمیل کا ثواب حاصل ہوالبتہ یہ واجب وضروری نہیں۔

سحری کھاتے رہنے کا وقت کب تک ہے؟ اس سلسلہ میں قرآنِ کریم نے سورۃ البقرہ کی آیت187 میں یہ اصول بتایا ہے:

اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ (رات کے) سیاہ دھاگے سے صبح کا سفید دھاگہ (سپیدۂ فجر) نمودار ہوجائے۔

in a modern restaurant setting a european islamic 2026 01 07 01 43 35 utc

اسکی تفسیر کتبِ حدیث میں بھی متعدد صحابہ کرام ؓسے مروی احادیث میں وارد ہوئی ہے چنانچہ صحیح بخاری و مسلم، ابوداؤد اور مسند احمد میں حضرت عدی بن حاتم طائی ؓبیان فرماتے ہیں کہ (ایک رات) میں نے سفید اور سیاہ دو دھاگے لئے اور انہیں اپنے تکئے کے نیچے رکھے، دیکھتا رہا لیکن مجھے سیاہ وسفید دھاگے کا فرق معلوم نہ ہوسکا۔

میں نے (صبح) یہ بات نبی اکرم ﷺ  کی خدمت میں ذکر کی تو آپﷺ مسکرائے اور فرمایا:

اے ابنِ حاتم! تب تو تمہارا تکیہ بہت بڑا ہوگا (جسکے نیچے دن اور رات آگئے) سفیدی و سیاہی سے مراد دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی ہے۔

جس طرح یہاں سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں ہم فجر کے وقت دو اذانیں سنتے ہیں۔ 

ایک جگانے اور کھانے کی اور دوسری سحری بند کرنے اور وقتِ نمازِ فجر کی۔

ایسے ہی عہدِ نبوی ﷺ اور دورِ خلفاء وصحابہ ؓ  میں بھی ہوتا تھا جیسا کہ صحیح ابن خذیمہ و صحیح ابن حبان، ابن المنذر و مسنداحمد اور دیگر کتب حدیث میں آتا ہے اور پہلی اذان حضرت ابن ام مکتومؓ  کہا کرتے تھے جوکہ نابینا تھے اور دوسری اذان حضرت بلال ؓ کہا کرتے تھے جوکہ معروف مؤذنِ رسولﷺ تھے اور بعض دیگر احادیث میں اسکے برعکس بھی آیا ہے۔

بہر حال ہر دو اذانوں سے پہلی جگانے اور کھانے کیلئے تھی اور دوسری سحری کھانے سے رک جانے کیلئے تھی چنانچہ ابن حبان وابن خذیمہ، ابن المنذر اور مسند احمد میں ہے:

جب  ابنِ ام مکتوم اذان کہیں تو کھاؤ پیو اور جب بلال اذان کہہ دیں تو کھانا پینا بند کردو۔

جبکہ صحیح بخاری و مسلم، مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

سیدنا بلال رات کے وقت اذان کہتے ہیں لہٰذا انکی اذان سن کر کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ کہہ دیں۔

معلوم ہوا کہ نمازِ فجر کی اذان ہونے تک سحری کا وقت رہتا ہے۔
حضرت انسؓ  فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زیدؓ سے پوچھا سحری کھانے اور اقامت ہونے کے مابین کتنا وقفہ تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا اس قدر کہ جس میں کوئی شخص 50 آیتوں کی تلاوت کرسکے۔

muslim family and friends gathering on iftar time 2026 01 09 01 14 18 utc

سحری کے آخری وقت کا اندازہ اُس حدیث سے بھی کیا جاسکتا ہے جو کہ ابوداؤد میں ہے۔
اس میں آپﷺ فرماتے ہیں:

جب تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور اسکے ہاتھ میں پانی کا برتن ہوتو وہ اسوقت تک برتن ہاتھ سے نہ رکھے جب تک کہ حسبِ طلب پی نہ لے۔ 

بعض احادیث میں سحری تاخیر کرکے کھانے کی ترغیب دلائی گئی اور اسے ’’سنتِ انبیاء‘‘ کا درجہ دیا گیا ہے اور اس امت کی خیر و بھلائی کا ایک راز بھی اسے ہی قرار دیا گیا ہے لیکن ان احادیث پر کچھ کلام کیا گیا ہے اور چونکہ صحیح تر حدیث میں صرف افطاری میں جلدی کرنے پر یہ خیر و بھلائی وارد ہوئی ہے لہٰذا سحری کو مؤخر کرنے کا پتہ دینے والی حدیث کو’’منکر‘‘ شمار کیا گیا ہے البتہ علامہ ابن عبد البر نے کہا ہے کہ افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کا پتہ دینے والی احادیث صحیح اور حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔