نائب گورنرِ مکہ شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے رمضان کے مقدس مہینے کی آمد کے سلسلے میں مسجد الحرام میں معتمرین اور زائرین کی خدمات اور سہولیات کے لیے کی گئی تیاریوں کا تفصیلی معائنہ کیا ہے۔
دورے کے دوران انہوں نے عبادت گزاروں اور عمرہ زائرین کے استقبال کے لیے تیار کیے گئے آپریشنل، خدماتی اور ڈیجیٹل منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شہزادہ سعود بن مشعل نے متعلقہ اداروں سے ان طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ لی جو رَش کے اوقات میں زائرین کی نقل و حرکت کو منظم بنانے اور ان کے آرام و سکون کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
نائب گورنر کو حرم مکی میں جاری ترقیاتی اقدامات اور اسمارٹ سروسز کے بارے میں بتایا گیا جن میں خاص طور پر معذور افراد اور بزرگوں کے لیے وقف الیکٹرک گاڑیاں شامل ہیں جو حرم کے احاطے میں آمد و رفت کو آسان بناتی ہیں۔
دورانِ معائنہ انہوں نے ’حفظ النعمة‘مہم کا بھی جائزہ لیا جس کا مقصد کھانے کے ضیاع کو روکنا اور اضافی خوراک کو منظم طریقے سے تقسیم
کرنا ہے۔ اس موقع پر مسجد الحرام کے صحنوں میں تعینات رہنمائی کرنے والی ٹیموں کے کام کو بھی سراہا گیا جو مختلف زبانوں میں زائرین کو ہدایات فراہم کر رہی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے نائب گورنر مکہ کو ’انٹرایکٹو میپ‘اور ’تنقل‘ نامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بارے میں بتایا گیا جن کی مدد سے زائرین پہلے سے اپنے راستوں کا انتخاب کر سکتے ہیں اور کم رش والے داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں حرم کے اندر مفت وائی فائی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ زائرین ’ڈیجیٹل مطوف‘ جیسی ایپس استعمال کر سکیں جو کئی زبانوں میں مناسکِ عمرہ کی وضاحت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ’رصد‘ پلیٹ فارم کے ذریعے شکایات اور مشاہدات کو الیکٹرانک طریقے سے مانیٹر کیا جاتا ہے تاکہ ان پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔
حرمین میں ہجوم کو منظم کرنے کے لیے جدید ترین سینسرز نصب کیے گئے ہیں جو لمحہ بہ لمحہ زائرین کی تعداد کی پیمائش کرتے ہیں۔ اس نظام کے تحت طواف اور سعی کے دوران رش کی صورتحال کو لائیو ڈسپلے کیا جاتا ہے تاکہ زائرین مناسک کی ادائیگی کے لیے موزوں ترین وقت کا انتخاب کر سکیں۔
شہزادہ سعود بن مشعل نے ’اسمارٹ انجینئرنگ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ کا بھی دورہ کیا، جو ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر تمام آپریشنل سسٹمز کو جوڑتا ہے اور ڈیٹا کی بنیاد پر فوری فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے تاکہ رمضان سیزن کے دوران کارکردگی کو بلند ترین سطح پر رکھا جا سکے۔